ahmadjawad

Politics, International Affairs, Sports, Media, Education

پہلی سلک روڈ، اوبور اور بھارت کی جلن — May 14, 2017

پہلی سلک روڈ، اوبور اور بھارت کی جلن

چند روز قبل بک سٹور میں گھومتے ہوئے میری نظر ایک منفرد کوور والی ایک کتاب پر پڑی جس کا عنوان ہے “دا سلک روڈز، آ نیو ہسٹری آف دا ورلڈ”۔ اس کتاب کے مصنف پیٹر فرینکوپین ووسٹر کالج آکسفورڈ میں ایک سینئر ریسرچ فیلو اور سنٹر فار بائزنٹائن ریسرچ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر ہیں۔ اس کتاب کے ابواب کی فہرست پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں سلک روڈز یعنی شاہرات ریشم پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے دنیا کی تاریخ کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ چند ابواب پڑھتے ہی یہ بات بہت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سلک روڈز صرف تجارت کے حوالے سے ہی اہمیت کے حامل نہیں تھے بلکہ ان کے استعمال سے آئیڈیاز، ثقافت، مذہب، زبانوں، رہن سہن کے طریقے، صنعت، فنون لطیفہ، ٹیکنالوجی اور فن تعمیر غرضکہ زندگی کے ہر شعبے پر اثرات مرتب ہوتے تھے۔ تجارت کے فروغ کے لئے بحیرہ روم کے مشرق اور مغرب، دونوں اطراف کی سلطنعتیں جنمیں، یونانی، رومن، چائنیز اور پرشین شامل ہیں کے درمیان اکثر کشمکش اور جنگ و جدل رہتا تھا۔ اور اس سب کی وجہ تھی سلک روڈز پر قبضہ۔ کیونکہ سلک روڈز دنیا کے بڑے خطوں کو آپس میں ملاتی تھیں اور تجارتی ترقی کے لیے شہ رگ گردانی جاتی تھیں۔۔

دنیا کی سب سے پہلی سلک روڈ کی بنیاد ایک سو انیس قبل مسیح میں چین کی ہان ڈائنسٹی نے اس وقت رکھی جب وہ ” شینگنو نومیڈز” جو کہ درندگی کی حد تک جنگجو تھے، کے ساتھ امن قائم رکھنے کی خاطر کئی سالوں تک ریشم، کرنسی کی صورت میں دیتے تنگ آگئے اور فیصلہ کیا کہ اب شینگنو کی بدمعاشی برداشت نہیں کی جائے گی، ان کو شکست دینے کے بعد ہان ڈائنسٹی نے ان کے علاقے شینگ پر قبضہ کر لیا۔ چونکہ شینگ کا علاقہ ہان ڈائنسٹی کے شمال میں واقع تھا لہذا وہاں کا موسم اور حالات ہان فوجیوں کے لئے مشکلات کا باعث بن گئے۔ ان کی خوراک اور دیگر مال و اسباب کم پڑنے لگے اور اس دوران بچے کھچے زور کے بل بوتے پر شینگنو خانہ بدوشوں نے ان کے لئے ایسے تمام ذرائع بند کرنے کے لئے پہ در پہ کوشیشیں بھی کیں لیکن وقت کے ساتھ شینگنو اپنی پہچان تک کھو بیٹھے۔ وہ وقت تھا کہ ہان ڈائنسٹی نے ان ذرائع کے حصول کے لئے مغرب میں واقع پامر کے پہاڑوں کے اس پار نظر ڈالی اور انسانی تاریخ کا پہلا سلک روڈ قائم کیا۔

اس سلک روڈ کا رخ مغرب یعنی صحرائے گوبی، صرائےٹکالامکان اور بالآخر یورپ کی طرف تھا۔ اس سلک روڈ پر صرف ریشم ہی نہیں بلکہ دیگر چیزیں جن میں، سونا، چاندی، شیشہ، قیمتی پتھر، مور کے پر، گھوڑے اور اونٹ شامل ہیں کی تجارت ہوتی تھی۔ اس تجارت میں اونٹ کو خاص اہمیت حاصل تھی کیونکہ اونٹ صحرائے گوبی اور ٹکالامکان کے بیچو بیچ گزرنے والے راستوں کے لئے موزوں ترین جانور تھا۔ اونٹ جس کو صحرائی جہاز بھی کہا جاتا ہے اس کی سب پہلی وجہ اس کی صحرائی ریت اور گرمی میں پھرتی اور رفتار تھی۔ اور یہی نہیں بلکہ اونٹ کو ایک سمجھدار جانور بھی سمجھا جاتا تھا اور اس کی وجہ تھی کہ وہ صحرا میں طوفان سے پہلے بھانپ لیتا تھا کہ طوفان آنے کو ہے لہذا رک جاتا تھا اس طرح اس کے مالک اور قافلے کو پتہ چل جاتا تھا اور وہ گرد اور طوفان سے بچنے کے لئے اپنے منہ کپڑوں سے ڈھانپ لیتے تھے۔

سلک روڈز ایشیا کو یورپ سے ملاتی تھیں اور دونوں اطراف کے درمیان ہونے والی تجارت سے زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ انہیں شاہراہوں کے مرہون منت مختلف مذاہب ایک سے دوسرے خطے میں منتقل ہوئے جن میں عیسایت اور بدھ ازم سر فہرست ہیں۔ سلک روڈز کی تاریخ بہت پرانی اور لمبی ہے۔ اس طویل سفر اور تاریخ کو تفصیل میں جاننے اور سمجھنے کے لئے کئی مضامین درکار ہیں اور گاہے بگاہے قارئین کی نذر کرتا چلا جاؤں گا۔ اس مضمون میں سلک روڈز کے حوالے سے ہونے والی سب سے نئی اور اہم پیش رفت کا جائزہ مقصود ہے۔

Silk Road

اس لیے ایک سو انیس قبل مسیح سے ڈائریکٹ دو ہزار سترہ پر جمپ کرتے ہوئے چین کے دارالحکومت بیجنگ میںو اس سال کے دنیا میں ہونے والے سب سے بڑے ایونٹ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم بیجنگ میں چودہ مئی سے پندرہ مئی تک جاری رہے گا جس میں انتیس ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت شرکت کر رہے ہیں، ان میں چین خود، روس، ترکی اور پاکستان قابل ذکر ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ درجنوں ممالک کے وزارتی اور اعلی افسران پر مشتمل وفود بھی شرکت کر رہے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن یعنی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گتاخیش کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لیگارڈ اور ورلڈ بنک کے ڈائریکٹر جم یانگ کم بھی شریک ہیں۔ یہاں تک کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ جس کا ون بیلٹ ون روڈ سے براہ راست تعلق نہیں اس کا ایک وفد بھی اس فورم میں شامل ہے۔ اور اگر ایک بڑا ملک شامل نہیں تو وہ ہے بھارت۔

بھارت اتنے بڑے ایونٹ میں شریک کیوں نہیں ہوا؛ یہ سوال بین الاقوامی تعلقات پر نظر اور ان میں دلچسپی رکھنے والے ہر ایک ذہن میں گونج رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ جو زہن میں آتی ہے وہ ہے پاکستان دشمنی۔ بھارت کی جانب سے چین کی مدد سے بننے والے سی پیک منصوبے جو ون بیلٹ ون روڈ کا سب سے اہم ترین حصہ ہے پر مسلسل تنقید کی جارہی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے بھارت نے پچھلے کچھ عرصے میں کشمیر میں پہلے سے زیادہ بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اور آئے روز لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے جس کے نتیجے میں کئی معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ صرف یہی نہیں بھارت افغانستان کی سر زمین کو اپنی ایجنسی را کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے پاکستان کا امن برباد کرنے کے لئے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور فنڈنگ کر رہا ہے۔ سیہون اور لاہور میں ہونے والے دہشت گردی کی بزدلانہ کاروائیوں کے تانے بانے افغانستان اور را سے جا ملے۔ اور بلوچستان سے بھارتی حاضر سروس نیول افسر اور را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کی کاروائیوں میں ملوث ہونے کا اقرار بھارتی جارحیت، امن دشمنی اور پاکستان میں فساد پھیلانے کے مضموم مقاصد کا کھلا ثبوت ہے۔

بھارتی ایکسٹرنل افیرز منسٹری کے ترجمان گوپال باگلے نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم سے ایک روز قبل اپنے بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ یکطرفہ ہے اس سے بھارت کی خود مختاری اور سالمیت کو خطرہ ہے لہذا بھارت اس فورم میں شرکت نہیں کرے گا۔ دوسری جانب بیجنگ میں فورم کے افتتاحی سیشن سے اپنی ابتدائیہ تقریر میں چین کے صدر شی جن پنگ نے واضح طور پر کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں موجود ممالک کے باہمی تعلق کو مضبوط تر کرنے کے لیے ہے اور ہم ملکر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری متاثر نہ ہو بلکہ یہ سب کے لیے ایک “ون ون کوآپریشن” ہو۔

اس کے ساتھ باگلے کا کہنا تھا کہ اس کنیکٹیویٹی منصوبے سے قرضے بڑھیں گے، اور گورننس اور ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔بھارت کے اس بات کو غلط ثابت کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گتاخیش کے بیلٹ اینڈ روڈ فورم پر کی گئی تقریر ہی کافی ہے۔ انہوں نے چین کے اس منصوبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ “پوسٹ ٹونٹی ففٹین ڈیولپمنٹ ایجنڈے” کے تحت وضع کیے گئے سترہ ” سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز” یعنی پائیدار ترقی کے اہداف کے عین مطابق ہے اور اس سے خطے میں بسنے والوں کے حالات زندگی بہتر ہوں گے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں یہ بات واضح کی کہ اس منصوبے کا مقصد تقسیم نہیں بلکہ باہمی اشتراک ہے اور پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و سلامتی کا خواہاں رہا ہے اور چاہتا ہے کہ اس منصوبے سے جڑے تمام ممالک پوری طرح مستفید ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت سنٹر آف گریویٹی تنازعات سے نکل کر تعاون کی جانب ہونا چاہیے۔

یہ تمام تقاریر بھارتی موقف کو غلط ثابت کرتی ہیں۔ اب جہاں ترقی کے اس بڑے منصوبے سے تین بر اعظموں؛ ایشیا، یورپ اور افریقہ جن کی کل آبادی پوری دنیا کی آدھی ہے کے کم سے کم پینسٹھ ممالک جو اس راہدری پر یا اردگرد واقع ہیں سمجھتے ہیں کہ منصوبہ اس صدی کا سب سے بڑا ترقی کا منصوبہ ہے اور جس کی تائید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی کی ہے، بھارت کو برداشت نہیں۔ بھارت اکیلا ہی منہ سجائے اپنی بے پرکی اڑانے میں لگا ہوا ہے۔ بھارت کو تاریخ سے کچھ سبق سیکھنا چاہیے ورنہ وہ جو پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں تنہا کرنے میں لگا ہوا تھا، جس طرح آج خود تنہا ہوا ہے تو ویسے ہی ہمیشہ کی طرح ہو جائے گا۔ اور اگر بدمعاشی کرے گا تو اس کا حال شینگنو خانہ بدوشوں جیسا بھی ہو سکتا ہے۔

پیٹر فرینکوپین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں “آج ہم گلوبلائزیشن کو ایک منفرد رجحان سمجھتے ہیں مگر دو ہزار سال قبل بھی یہ ایک حقیقت تھی جس نے مواقع بھی پیدا کیے اور مسائل بھی اور ساتھ ساتھ تکنینی ترقی کی حوصلہ افزائی بھی کی۔” آج کی دنیا دو ہزار سال قبل کی دنیا سے زیادہ ترقی یافتہ اور عقلمند ہے لہذا ون بیلٹ ون روڈ کی افادیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے دنیا کو مسائل پر قابو پانے کے لیے اس سے بھرپور مستفید ہونا چاہیے تاکہ نئی نسلوں کا مستقبل روشن ہو۔
(جاری ہے۔۔۔۔تحریر احمد جواد)

Advertisements
شکل پر نہ جانا بابو — April 24, 2017

شکل پر نہ جانا بابو

رومی فرماتے ہیں کہ محبت چہرے کی خوبصورتی دیکھ کر نہیں کرنی چاہئیے کیونکہ ظاہری حسن کو روح کی پاکیزگی اور دل کی شفافیت پر فوقیت دینے سے انجام صرف اور صرف رسوائی اور شرمندگی ہی ہوتا ہے۔

تازہ ترین مثال ریحام خان کی ملاحظہ کر لیجئے۔ وہ جو نیم برہنہ کپڑے پہن کر کھلے بالوں کے ساتھ مردوں کے ساتھ کھلے عام ڈانس کیا کرتی تھی۔ سکرٹس پہن کر گوروں کے ساتھ خبریں پڑھا کرتی تھی۔ جس کا پہلا امراض دماغ کا ڈاکٹر شوہر اس کو ایک نا شکری، لالچی، بے صبری، منہ پھٹ اور مغرور عورت کے القابات سے یاد کیا کرتا ہے؛ اس عورت نے اپنے ظاہری حسن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور نام نہاد پاکستانی طریقہ صحافت کے ذریعے راستہ ہموار کرتے ہوئے عوام کی ہر دلعزیز لیڈر پر دھرنے کی تھکاوٹ کے دوران جانے کون کونسا منتر پڑھ کر اس کو اپنے آپ پر فریفتہ کیا اور اس کی ساتھ عین اس تحریک کے دوران کہ جس سے اس ملک و قوم کے کروڑوں پسے ہوئے عوام کی تقدیر بدل سکتی تھی، اس لیڈر کے ساتھ نکاح کا ڈھونگ رچا کر اس کی خواب گاہ تک رسائی حاصل کر لی۔

 “ایسپیوناج” کا سب سے پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے لئے سب سے پہلے اس کا اعتماد اور یقین حاصل کیا جائے اور پھر اس کو اتنا پختہ کیا جائے کہ اس کو آپ پر رتی برابر بھی شک نہ ہو اور پھر موقع ملتے ہے اس پر وار کر دیا جائے۔ اور شادی سے بہترین اور جائز ترین ایسپیوناج کا طریقہ ریحام کے لئے اور بھلا کیا ہو سکتا تھا۔

کپتان کے اس پسند اور فیصلے پر اس کے چاہنے والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ قوم کی جو ایک امید دہائیوں بعد بندھی تھی وہ ٹوٹتی ہوئی دکھائی دینے لگی۔ شکوک و شبہات اور وسوسوں کے ایک نئے سلسلے نے جنم لے لیا۔ کپتان کے ناقدین جو اندر ہی اندر سے تبدیلی کے حصول کی خواہش رکھتے تھے اور وہ نوجوان جو کپتان پر جان چھڑکتے تھے اس فیصلے سے بہت گھبرا گئے۔ خیر شادی ہو گئی اور پورے ملک کے نیوز چینلز شادی اسٹوڈیوز کی شکل اختیار کر گئے۔ اور سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔ کپتان کو چاہنے والوں کی اکثریت اس شادی سے صرف ناخوش ہی نہیں بلکہ مخالفین کے سامنے وہ بیک فٹ پر جاتے ہوئے دکھائی دی اور ان پر سوالات کی یلغار کر دی گئی۔

ریحام نے خان صاحب کے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ میڈیا کوریج ہونے لگی۔ جس تیزی کے ساتھ ریحام جن کو کھلاڑی بھی نیشنل بھابھی یا حسن نثار کے مطابق مادر ملت ماننے لگے اسی تیزی کے ساتھ ریحام پارٹی میٹرز اور ایونٹس میں شامل اور دخل اندازی کرنے لگی۔ کچھ عرصے بعد حالات نے اچانک کروٹ بدلی اور ان دونوں کی طلاق کی خبریں منظر عام پر آنا شروع ہو گئیں اور پھر ان کی تصدیق بھی ہو گئی۔

وہی ریحام جس نے نیشنل بھابھی بننے کے بعد اپنے سر کو دوپٹے سے ڈھانپنا شروع کر دیا تھا کہ بارے میں یہ افواہیں بھی اڑیں کہ انہوں نے خان صاحب کو زہر دیا اور خان صاحب بڑی مشکل سے بچے۔ اس بات کی تاہم پارٹی کی جانب سے تصدیق نہ ہوئی لیکن خان صاحب نے کسی جلسے کی اپنی تقریر کے دوران نواز شریف کے بیرون ملک علاج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ایک دفعہ وہ بہت بیمار ہو گئے تو ڈاکٹرز کو ان کا پورا پیٹ چاک کر کے صفائی کرنا پڑی۔

طلاق کے بعد جب خان صاحب سے پشاور میں کسی صحافی نے سوال کیا تو انہوں نے اسے ٹوک کر چپ کروا دیا اور بعد میں معزرت کرنے کے ساتھ انہوں نے میڈیا اور چاہنے والوں سے درخواست کی کہ ریحام کے بارے میں کوئی نازیبا الفاظ استعمال نہ کئیے جائیں بلکہ وہ خود ان کی عزت ہی کرتے ہیں۔

مگر دوسری جانب ریحام نے مختلف اوقات میں مختلف صحافیوں کو انٹرویوز میں خان صاحب کی ذاتی زندگی، بچوں، پارٹی، سیاسی ٹیم، طریقہ سیاست اور یہاں تک کے پالتو کتوں تک پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ جب جب خان صاحب اپنے مخالفین کے خلاف اپنی گرفت مظبوط تر کرتے دکھائی دیتے ہیں تب تب ریحام خان کوئی نا کوئی شوشا یا چٹخلا چھوڑتی ہی ۔ سپریم کورٹ کے پانامہ پیپرز فیصلے کے بعد مخالفین کا ایجنڈا لے کر ریحام ایک مرتبہ پھر ایک سینئر صحافی کے ساتھ ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو میں نمودار ہوئیں اور ایک دفہع پھر عجیب و غریب سینئر صحافیانہ سوالات کے بھونڈے ترین جوابات دیتے ہوئے دکھائی دیں۔

یہاں ایک بدو عورت کا ذکر کرنا ضروری ہے جو انتہائی خوبصورت تو تھی مگر بھیک مانگا کرتی تھی۔ ایک دن بادشاہ کا وہاں سے گزر ہوا تو بادشاہ کا اس پر دل آگیا۔ بادشاہ نے اس سے شادی کا ارادہ کر لیا۔ مشیروں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر بادشاہ سلامت کی عقل پر پڑے پردے کو ہٹھانا کسی بھی مشیر کے بس کا روگ نہیں تھا۔ بادشاہ اس مانگنے والی بدو عورت کو بیاہ کر محل میں لے آیا۔ آہستہ آہستہ بادشاہ نے نوٹ کیا کہ اسکی ملکہ جو اب مانگنے والی اور بدو نہیں رہی تھی، کچھ نہ کھاتی، نہ پیتی تھی اور دن گزرنے کے ساتھ اس کی صحت ڈھلنا شروع ہو گئی۔ بادشاہ اپنی ملکہ کی اس حالت زار پر بہت پریشان ہوا تو اس کو اچانک ایک ترقیب سجھی۔ اس نے کھانے پینے کی اشیا ملکہ کے کمرے کے مختلف کونوں میں تھوڑی تھوڑی کر کے رکھ دیں اور بعدازاں یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ وہ تمام چیزیں اس کی موجودہ ملکہ اور سابقہ مانگنے والی نے کھا لی تھی۔ ان کی لو اسٹوری کا انجام جو بھی ہوا مگر بادشاہ کو اس امر کا شدت سے احساس ہو گیا تھا کہ لاکھ کسی کو عزت دے دی جائے مگر اگر اس کی فطرت یا خصلت ایسی ہے کہ اسے عزت راس نہیں تو وہ اپنے ہی طریقے سے زندگی گزارنے کو عزت پر ترجیح دے گا۔

ریحام خان کے لئے کیا اتنا کافی نہیں تھا کہ کپتان جیسے سچے اور کھرے لیڈر کی اہلیہ بنی، قوم نے نیشنل بھابھی کہہ کر پکارا۔ مگر شادی کے دوران اس نے عوامی تحریک کو اس ہی شخص سے ہتھیانے کی کوشش کی اور اس کا خمیازہ اس کو طلاق کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ طلاق کے بعد کے اس کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کپتان کی بیوی نہیں بلکہ ایک جاسوس بن کر ان کی خواب گاہ تک پہنچی اور کپتان کی بدنامی کا جو طریقہ اس سے بن پڑا اس نے استعمال کیا۔

دوسری جانب بڑے بڑے نیوز چینلز اور صحافی جو اپنے آپ کو عوام کا مسیحا کہتے ہیں، نے بھی اس بگاڑ میں اپنا پورا پورا کردار ادا کیا۔ وہ نام نہاد سینئر صحافی اور اینکر پرسنز جن کو کپتان کے خلاف اور تو کوئی الزام نہیں ملتا تو وہ مخالفین کا ایجنڈا لئے کپتان کی ذاتیات پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ بس اس سے سابقہ برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جب مخالفین کے پاس کوئی سیاسی دلیل نہیں بچتی تو وہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔ ریحام خان جو کیا سے کیا بن سکتی تھی مگر اپنے امراض دماغ کے ڈاکٹر سابقہ شوہر کی اس بات پر مہر تصدیق لگاتی ہے کہ وہ ایک بے صبری، لالچی اور مغرور عورت تھی اور ہے اور اس کی یہ فطرت بدل نہیں سکتی۔ دوسری جانب کپتان کا حوصلہ تو دیکھئیے کہ اس سب کے باوجود وہ خود تو دور کی بات اپنے چاہنے والوں کو بھی اس عورت کے خلاف نازیبا الفاظ بولنے سے اجتناب کی تلقین کرتے ہیں۔ طلاق ہو جانے کے بعد بھی ریحام خان کا عمران خان کے خلاف زہر اگلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عمران خان کی شخصیت کے سحر سے نکلنا ناممکن ہے ۔۔۔چاہے کسی کو طلاق ہی کیوں نہ ہو گئی ہو۔

(جواد تہامی)

(عمران خان کی ریحام خان کی شادی پر میرا لکھا ہوا بلاگ ملاحظہ ہو)

jawadtehami.wordpress.com

ناقابل اشاعت۔۔۔۔۔۔۔عمران-ریحام شادی —

ناقابل اشاعت۔۔۔۔۔۔۔عمران-ریحام شادی

دنیا میں ہونے والے بڑے حسن کے مقابلوں میں سب سے ذیادہ مرتبہ یعنی اکیس مرتبہ فاتح قرار پانے والی حسن کی دیویوں کا تعلق لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا سے ہے۔ دنیا کی حسین ترین عورت یا لڑکی جو بھی کہہ لیجیئے دنیا بھر میں شہرت اور پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہوتی ہی ہے مگر کیا ملکہ حسن کے تاج کے حصول کے لئے اس کو کسی مشکل سے گزرنا پڑتا ہے یا بس ایسے ہی اس کو یہ تاج سونپ دیا جاتا ہے؟وینزویلا میں ملکہ حسن کی تیاری کے لئے ایک درد ناک اور ہو شربا طریقہ کار مروج ہے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو ملکہ حسن بنانے کے لئے بارہ سال کی عمر سے ہی اکیڈیمیز میں بھیجتے ہیں۔ ان لڑکیوں کی مائیں خود انہیں ایسے ہارمونز دیتی ہیں جو ان کو بلوغت تک پہنچنے میں تاخیر کو یقینی بناتے ہیں۔ پھر ان کی آنتوں کا ایک حصہ کاٹ کر باہر نکال دیا جاتا ہے تاکہ خوراک کم سے کم ہضم ہو پائے۔ ان کی زبان پر پلاسٹک کی جالی لگا دی جاتی ہے جس کے باعث ان کو خوراک کھانے میں تکلیف کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کم سے کم کھا سکیں۔ ان کی کمر کے ارد گرد پلاسٹر بھی باندھ دیا جاتا ہے تاکہ کمر ایک حد میں رہے۔ بالکل ایسے ہی کئی اور اعضا کی پلاسٹک سرجری سے ان کو ملکہ حسن کے مقابلوں میں شرکت کے قابل بنایا جاتا ہے اور پھر لاطینی امریکہ کا ملک دنیا کے باقی تمام ممالک پر بازی لے جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں لڑکیوں کے والدین برھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اور یہ رجحان چند خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ وینزویلن معاشرے میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ نا صرف شہرت اور پذیرائی بلکہ دولت کمانے کا ایک موثر ترین طریقہ تصور کیا جاتا ہے۔  یورپ کے ملک اسپین کے موجودہ بادشاہ فلپے سکس کو سال دو ہزار چودہ کے جون میں بادشاہت کا تاج سونپا گیا۔ ان کی اہلیہ یعنی ملکہ اسپین لیٹزیا اورٹز کا تعلق ایک متوسط خاندان سے تھا؛ جرنلزم میں ڈگری حاصل کرنے بعد انہوں نے شعبہ صحافت میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے سی این این اور اے بی سی جیسے کئی بڑے میڈیا آرگنائزیشنز کے لئے کام کیا۔ پھر ان ،ملاقات ایک شہزادے سے ہوئی اور شہزادے نے اینکرنگ/رپورٹنگ میں نام پیدا کرنے والی ایک عام گھرانے کی ایک طلاق یافتہ عورت سے شادی کرے اس کو شہزادی بنا دیا۔ اور پھر انیس جون دو ہزار چودہ کو وہ ملکہ اسپین کا تاج اپنے سر پر سجائے ہوئے تھیں۔

 کہتے ہیں صحافیوں اور خاص طور پر خواتین صحافیوں کی رسائی بڑی دور تک ہوتی ہے اور اسی طرح بڑے بڑے لوگوں جن میں سیاست دان، شہزادے، کرکٹرز، فٹبالرز، ایکٹرز، کارپوریٹ ٹایکونز ، کامیاب وکلاء، ججز اور جرنیل شامل ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جرنلزم کے شعبے میں ترقی کرنے اور نام کمانے والوں میں خواتین صحافی مردوں کی نسبت ذیادہ تیز رفتار ثابت ہوتی ہیں۔۔ آجکل ویسے پاکستان میں ٹاک شوز بھی ایک نیا رجحان اختیار کر رہے ہیں؛ یعنی کسی بڑے تجزیہ کار کے پروگرام میں ایک فی میل ہوسٹ کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔

پاکستان میں سال دو ہزار چودہ کے آخری مہینوں کے دوران دھرنوں کے کافی چرچے رہے۔ ان دھرنوں کے وجہ سے کئی خواتین کو ریلیوں اور جلسوں میں مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی خبریں بھی سامنے آتی رہیں شاید اس لئے کے خواتین رپورٹرز اور اینکرز ان میں بڑھ چڑھ کر صحافتی ذمہ داریاں سر انجام دیتی رہیں؛ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ مالکان اس لئے خواتین رپورٹرز کو فیلڈ میں بھیجتے تھے کہ شاید کچھ خاص پارٹیوں کے بپھرے اور مشتعل کارکنان نظم و ضبط اور صحافیوں سے حسن سلوک کا مظاہرہ کریں۔

پھر اچانک ایک انسانیت سوز حادثے کے بعد دھرنا ختم کرنے اعلان کر دیا گیا لیکن پارٹی کے کارکن خواتین سے مہذب طریقے سے پیش آتے نہ آتے؛ پارٹی کے سربراہ نے خواتین صحافیوں کی کس طرح عزت کرنے ہے کی نئی واضح مثال قائم کر دی۔ کئی ماہ سے ہوا میں گردش کرنے والی افواہوں کی ایک برطانوی نشریاتی ادارے نے تصدیق کرتے ہوئے ایک خبر شائع کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک خاتون صحافی سے خفیہ شادی کر لی ہے۔ ان خاتوں صحافی کا نام ہے ریحام خان جو پاکستان کی سیاست پر ٹاک شوز کرنے سے پہلے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پر موسم کے حالات سے ساوتھ ایشیا ریجن کے ناظرین کو آگاہ کیا کرتی تھیں۔ عمران خان نے نہ ہی اس خبر کی تصدیق اور نہ ہی تردید کی ہے البتہ برطانوی نشریاتی ادارے ڈیلی میل نے کچھ قریبی ذرائع سے اس بات کی تصدیق کرنے کے بعد خبر نشر کی۔ اس کے بعد عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ کی کہ ان کی شادی کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے البتہ ریحام خان کا اس حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید کا پیغام منظر عام پر نہیں آیا۔ عمران خان کے ٹویٹ پر غور کیا جائے تو انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ان کی شادی کی خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے؛ اس کا مطلب تو شادی تو ہوئی ہے لیکن خبریں کچھ ذیادہ ہے دی جارہی ہیں۔ ایک اور نشریاتی ادارے کے رپورٹ کے مطابق ریحام خان نے عمران خان سے شادی کے بعد ملک کی اگلی خاتون اول بننے کی خواہش بھی ظاہر کر دی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ واقعی ملک کی اگلی خاتون اول بننے میں کامیاب ہو پائیں گی؟ اگر یہ خبر صحیح ثابت ہو جاتی ہے کہ وہ عمران کی اہلیہ بن چکی ہیں تو کیا ان کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ وہی ملک کے اگلے وزیر اعظم کی بیگم ہوں گی اور اگر عمران وزیر اعظم نہ بن پائے تو کیا ریحام پھر بھی ان کا ساتھ نبھائیں گی یا جمائمہ کی طرح عمران کی ناکام سیاست کی وجہ سے انہیں چھوڑ جائیں گی؟ اور اگر وہ چھوڑ جائیں گی تو کیا جمائمہ کی طرح وہ بھی اپنے نام کے ساتھ سے خان کا لفظ ہذف کر دیں گی؟ شاید نہیں ان کا نام کے ساتھ تو پہلے ہی خان لگتا ہے۔ 

اب کچھ بات کر لیتے ہیں ان سوالات کی جو اس شادی کے بعد کارکنان تحریک انصاف ، ملک و قوم اور نئے بننے والے پاکستان پر اپنا اثر چھوڑیں گے۔ اگر یہ خبر ثابت ہو جاتی ہے اور عمران ملک کے اگلے وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ ریحام خان ملک کی خاتون اول بن جاتی ہیں تو کیا پھر نئے پاکستان میں اس پارٹی کے کارکنان کے لئے خواتین صحافیوں سے برتاو اور سلوک کی ایک نئی مثال قائم ہو جائے گی؟ کیا کارکنان خاتون صحافیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا شروع کر دیں گے؟ اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر کیا وینزویلا کی طرح اس ملک کے والدین بھی اپنی بیٹیوں کو صحافی بنانے بلکہ ایک کامیاب صحافی بنانے کے نہ صرف خواب دیکھنا بلکہ ان کو صحافتی ٹریننگ دینے والی اکیڈمیوں میں جوق در جوق بھیجنا شروع کر دیں گے؟ کیا وہ بھی کسی ملک کے شہزادے، بادشاہ یا اگلے وزیر اعظم کو اپنا داماد بنانے کے کے لئے اپنی بیٹیوں کو وینزویلا میں مروجہ طریقوں کی طرح طریقے سکھانے میں معاونت کریں گے؟ کیا نئے پاکستان میں لڑکیاں ایک کامیاب صحافی بننے کا خواب سجا کر معاشرے کے اندھا دھند ٹوٹکوں کا شکار تو نہیں بننا شروع ہو جائیں گی؟ اور اگر ہو جائیں گی تو کیا ان کو اس کے بدلے ملک کا اگلا وزیر اعظم بطور شوہر مل پائے گا؟ اور مل پائے گا تو ہمارا ملک نئے دور میں کتنے نئے وزیر اعظم اور کتنی صحافی خاتون اول پیدا کرے گا کیونکہ اس ملک میں تو جمہوریت ہے؛ اسپین کی طرح پادشاہی نظام تو نہیں۔ جمہوریت میں تو کارکنان اپنے رہنما کے کہی ہوئی بات یا کئے ہوئے عمل کا زبردستی یا دھونس سے، تقلید تو نہیں کرتے بلکہ دل سے اور خلوص نیت کے ساتھ کرتے ہیں اور نئے پاکستان میں تو سب کے حقوق برابر ہوں گے۔

Written and Published online: 01-01-2015

A Pure Fiction (Soulmate) — February 16, 2017

A Pure Fiction (Soulmate)

Along the way he met three different persons.

The first person said, “Don’t tell me your problems; I’v my own!”

He was in pain but as he moved on; it vanished.

Then came the second person and said, “Give me all your problems but don’t expect anything in return.”

Again there was pain but much lesser but as he moved on his feeling of not being owned turned grimmer.

Then suddenly along the road appeared a third person from an invisible direction who said, “Just be and you will have no problem.”

His happiest moments had finally arrived when he had almost lost his faith and heart to darkness, chaos and hopelessness. His scattered dimensions were all set in place at once. He retrieved the very face of God which he had lost in painful memories; he had found his soulmate.

 

“Pink” (Movie Review) — October 24, 2016

“Pink” (Movie Review)

Roshni kay paaon mai ye bairrian kyun ayeen?!”

Pink is unique and is a great example of unconventional Bollywood; it’s huge success. pink-2

A movie conceived to find out the answers to the very predetermined set of beliefs which are normally, traditionally and culturally perceived as the hallmarks of a patriarchal society. The concept reaches out to the very core of the existence of women and tries to establish that they are not an object, commodity or as a matter of fact not weaker gender at all. Hence they have the right of keeping and expressing their will and consent and live the way they like and decide for themselves. 

pink-1

The movie is replete with intense sequences that melts the heart on many occasions and lets lose the tears trickle down. Hard hitting questions and thought provoking messages set a stage for the viewer where one gets a chance to conscientiously connect to the dark plot which symbolizes the male chauvinist social conscious. The story however somewhere in the middle seems to lose the grip a little but the exceptional performances by all the lead characters in particular have well kept the tempo at a thorough pace. Every single word uttered and every single move made has instilled energy and life throughout which makes the movie a well crafted one. 

pink-4

Amitabh Bachchan  has performed the role of a lawyer who had quit the legal practice owing to his declining health but circumstances goad him to take up the case of the three girls who are in a vicious trap. Bachchan yet another time proves why he remains aloft in ranks than any other male artists when it comes to versatility. He dispels all the notions currently prevalent in Bollywood for the success of a film. The only fact he matures by this performance is that his presence is good enough for a film to earn the best critique.

The Shallows (Review) — September 26, 2016

The Shallows (Review)

shallows-movie-poster1

If you want to watch a movie which not only gives you on the edge of seat thrill but also sends out a very strong thought provoking message at the same time then “The Shallows” is the one you will fall in love with. The Shallows doesn’t contain a superfluous stream of unnecessary dialogue and hard hitting one-liners but conveys a message of mustering courage and utilizing instinctive resilience in adversity through well calculated and manipulated action.

The Shallows is cinematographic bouquet of stupendously overflowing beauty of white sand beach setting on a clear and bright sunny day, demarcated on the rear side by thick lush green jungle and of course with its front wrapped by vast and greenish tint sea. Stunning film photography uses various imageries and scenic settings which prove to be more than just tempting for the viewer. The thrill action scenes performed by charming Blake Lively (Nancy Adams) above the sea surface in form of sea surfing sequences stacked with rock and roll musical insertion are a beauty in themselves. The curiosity of the viewer is kept intact throughout the movie with schematically directed underwater sequences of conflict of Nancy Adams with a ferocious shark.

gavrtvj9htncvuxcce2xbzkewoj

The film points out the adverse effects of oil spills to the natural oceanic habitats. Owing to these spills various sea species happen to be on the brink of extinction henceforth forcing predator sharks which are often believed to be deep sea creatures tend to shift towards the shallow waters in search of food. These predators eventually prove to be a danger for the re-creationists and tourists at the beaches.

blake-lively-and-the-shark-the-shallows-39717776-1000-544

Nancy Adams a medical student arrives at a beach in Mexico to rejuvenate and recollect the memories of her deceased mother. Nancy was to be joined by a friend at the beach but she doesn’t arrive and Nancy has to roll over the sea surface all alone. During the recourse to enlighten her mother’s memories in the shallow waters; Nancy is attacked by a gigantic and violent shark. There from the charms of the trip turn into a living nightmare for Nancy as she is left stranded alone on a pygmy rock in the shallows some two hundred yards away from the beach while the shark keeps hovering around that rock.

shallow2-jpg

Nancy is weak; she has no one around to rescue her. She tricks and fights not only the shark but also the rising currents of the high tide. The real fight of the beauty and the beast takes the breath away. The victory at the end is pleasingly surprising. It’s neither Nancy nor the shark that wins but it’s the fighting spirit and appropriate use of brains that wins. The spirit of not giving up wins, the spirit of helping others despite one’s own helplessness wins, it’s “The Shallows” that wins!

 

 

ایکٹر ان لاء؛ انتہائی بھونڈی فلم کیوں ہے؟ — September 20, 2016

ایکٹر ان لاء؛ انتہائی بھونڈی فلم کیوں ہے؟

میں جب بھی سینما گھر جاتا ہوں تو مووی شو سے پہلے ہر مرتبہ قومی ترانہ پورے عزت، احترام اور عقیدت کے ساتھ کھڑے ہو کر سننا پڑتا ہے۔ حب الوطنی کا رنگ پوری طرح چڑھایا جاتا ہے تب مووی دکھائی جاتی ہے۔ میرے ذہن میں اکثر یہ سوال آیا کرتا تھا کہ انگلش اور انڈین فلموں سے پہلے قومی ترانہ سنانے کی سمجھ تو آتی ہے مگر پاکستانی فلم سے پہلے قومی ترانہ سنانے کا کیا مقصد ہے؟ لیکن اس سوال کا جواب بھی کسی حد تک مجھے اس عید پر ریلیز کی گئی ایک پاکستانی فلم دیکھنے کے بعد مل ہی گیا۔

فلم کا نام ہے ایکٹر ان لاء اور اس کو دیکھنے کے بعد جو میرے محسوسات ہیں وہ میں قلم بند کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس فلم سے نہ ہی عوام کو تفریح فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی معاشرتی برائیوں اور مسائل پر ہلکے پھلکے اور شائستہ انداز میں چوٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ قومی اداروں، مقدس پیشوں اور معاشرتی اخلاقیات اور شعار کا بھونڈے طریقے سے مذاق اڑایا گیا ہے۔  حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان سنسر بورڈ نے   اس فلم کی سینما گھروں میں نمائش کی اجازت کیسے دے دی؟

قومی پرچم کے تقدس کی پامالی  

فلم میں غیر ذمہ داری کا اس حد تک مظاہرہ کیا گیا ہے کہ قومی پرچم تک کو بھی نہیں بخشا گیا۔ انڈین فلموں کو سامنے رکھ لیا جائے تو شاید ہی کوئی ایسی فلم ملے جس میں انہوں نے اپنے قومی پرچم یعنی ترنگے کا مذاق بنایا ہو۔ وہ تو اس ترنگے کی حرمت پر مر مٹنے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن دل خون کے آنسو رودیا جب فلم میں قومی پرچم کے سبز اور سفید رنگوں کی بات کمرہ عدالت میں ہوتی ہوئی دکھائی گئی اور یہ کہہ دیا گیا کہ سفید رنگ جو اقلیتوں کے نمائندگی کرتا ہے “ڈنڈا بھی تو وہاں ہی دیا گیا ہے”۔ جی وہی پرچم جس کو ہمارے ملک کے بڑے ہر سال چودہ اگست کو پھولوں کی پتیوں میں لپٹا، ہوا میں بلند کرکے دنیا بھر کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم، یہ پرچموں میں عظیم پرچم، عطائے رب کریم پرچم۔  جی ہاں اسی پرچم کے بارے میں یہ الفاط استعمال کئے گئے ہیں جس کا قومی ترانے میں بھی ذکر کیا گیا ہے جو سینما گھروں میں ہر فلم کے شروع ہونے سے پہلے سنایا جاتا ہے۔

 دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پرچم کسی بھی ملک کا یا قوم کا ہو اس کو ہوا میں اونچا کرکے لہرانے کے لئے کسی ستون یا مستول سے باندھںا پڑتا ہے مگر اس بات کا مقصد اور مطلب کیا ہے کہ “ڈنڈا بھی وہاں ہی دیا گیا ہے”؟ اس کے صرف دو ہی مطلب نکلتے ہیں؛ ایک تو یہ کہ اس قوم کے پرچم کے بارے میں جو بھی الفاظ استعمال کر لئے جائیں اس قوم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگے گی کیوں کہ فلم بنانے والے فرض کر چکے ہیں کہ قوم اس بات پر ہی خوش ہو جائے گی کہ کسی پاکستانی فلم میں اس قدر بہادری کا مظاہرہ کیا گیا ہے کہ اس میں ” ڈنڈا بھی تو وہاں ہی دیا ہے” جیسے بازاری فقرے استعمال کئے گئے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ کہ اس ملک میں سفید رنگ جو اقلیتوں کا نشان ہے ان کو اس قوم نے ڈنڈا دے کر رکھا ہوا ہے۔ فلمیں صرف کسی ایک ملک کی حدود کے اندر ہی نہیں دیکھی جاتیں بلکہ دنیا دیکھتی ہے تو اندازہ کریں کہ جب دنیا اور خاص طور پر پڑوسی ملک میں لوگ یہ فلم دیکھیں گے تو اقوام عالم میں ہمارا کیسا مذاق بنایا جائے گا کہ کیسی قوم ہے جس کو اپنے قومی پرچم کی حرمت اور تقدس کا خیال نہیں ہے۔ ہاں وہی پرچم جس کو جب کشمیر میں لہرایا actor-in-lawجاتا ہے تو یہ خوش ہوتی ہے۔

پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن ایک سو تئیس بی کے مطابق قومی پرچم کے بے حرمتی کرنے والے شخص کو تین سال تک جیل یا جرمانہ یا پھر دونوں ہو سکتے ہیں۔

فلیگ رولز دو ہزار دو کے مطابق قومی پرچم کی حرمت اس قدر ہے کہ اس کو رات کے اندھیرے میں لہرایا نہیں جاسکتا۔ تمام سرک عمارتوں پر پرچم کشائی صرف اور صرف صبح کے آغاز پر کی جا سکتی ہے جبکہ شام ہوتے ہی اس کو پر وقار تقریب کے ساتھ سرنگوں کیا جانا لازم ہے۔ صرف اور صرف پارلیمنٹ کی عمارت ایسی ہے جہاں قومی پرچم ہمیشہ کے لئے فضا میں بلند رہتا ہے اور رات کو اس کو روشن رکھنے کے لئے خاص طور پر اس پر لائٹ ڈالنے کا بندو بست کیا گیا ہے۔ پرچم کی شان اتنی ہے کہ اس کو ہر تقریب  میں ملک کے تمام اداروں کے پرچموں سے اونچا رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے بھی اس سال پنجاب حکومت کو چودہ اگست سے پہلے حکم جاری کیا تھا کہ مختلف تصویروں اور رنگوں میں چھپنے والے ستارہ و ہلالی پرچموں کی تیاری پر پابندی کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے تاکہ قومی پرچم کا تقدس پامال نہ ہونے پائے۔

  فلم کی کہانی: عدلیہ اور وکالت کی تضحیک  

 یہ فلم شروع ہوتی ہے ایک لڑکے شانی کی کہانی سے جس کا والد وکیل ہوتا ہے اور وہ لڑکا والد کے پرزور اور بارہا اسرار اور تاقید کے باوجود بھی وکیل نہیں بلکہ ایک ایکٹر بننا چاہتا ہے۔ لاکھ کوشش کے بعد اس کو کوئی بھی رول دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اس کے والد کو اس بات پر غصہ ہوتا ہے اس کے بیٹے نے لاء کالج مکمل کیوں نہیں کیا۔ پھر ایک دن شان کا والد حج کرنے کے لئے چلا جاتا ہے۔ اس دوران اس لڑکے کا ایک دوست اس کو ایک چھوٹے سے رول کے لئے لے جاتا ہے، فلم کے سیٹ پر اس کی اوور ایفی شینسی کی وجہ سے اس کو وہاں سے بے عزتی کروا کر نکلنا پڑتا ہے۔ اور واپسی پر اس کو اپنے والد کے عدالت سے کچھ کاغذات لانے پڑتے ہیں، جب وہ عدالت پہنچتا ہے تو وہاں شدید بارش شروع ہو جاتی ہے۔ اس دوران کچھ مزدورں کا ایک گروہ اس کو زبردستی اپنا کیس لڑنے کے لئے جج صاحب کے پاس لے جاتا ہے کیونکہ شانی اس وقت کالے کوٹ اور ٹائی میں ہوتا ہے۔ وہ عدالت میں فلم کے ڈائیلاگ مار کر فیصلہ مزدوروں کے حق میں کروا دیتا ہے۔ اب سوال یہ کہ کوئی بھی منہ اٹھا کر کسی کا کیس کیسے بغیر مقدمہ دائر کئے عدالت میں لڑ سکتا ہے؟ عدالت میں کسی کا کیس لڑنے کے لئے سب سے پہلے تو لاء کی ڈگری ہونا ضروری ہے پھر پاکستان کا یا کسی بھی صوبے کے بار کونسل کی جانب سے وکالت کا لائسنس ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد وہ عدالت میں ایک ضابطہ کار کے مطابق پیش ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے وکیل کو اپنے سائل کا کیس عدالت میں کلرک آف کورٹ کے پاس جمع کروانا پڑتا ہے۔ کلرک اس پر اس عدالت کے جج صاحب کی ایکسیپٹنس یا ریجیکشن کی مہر لگاتا ہے۔ اس عدالت میں سماعت کے لئے کیس کی قبولیت کے صورت میں عدالت کی جانب سے مدعا علیہ کو نوٹس بھجواتا ہے۔ نوٹس ملنے کے بعد مدعا علیہ جواب دعوی دائر کرتا ہے۔ اس کے بعد دونوں پارٹیوں کو ایک مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہونا ہوتا ہے جہاں ان کو اپنا اپنا مدعا بیان اور ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اس کو ایشو فریم کہتے ہیں۔

اس فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ شانی جو ایک جعلی وکیل ہوتا ہے وہ سیدھا عدالت میں جا کر مزدوروں کے حق میں دلائل دینا شروع کر دیتا ہے اور اس کے بحث کے بعد فاضل عدالت کے جج صاحب مخالف پارٹی کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ اس نے پہلے کیس فائل کیا ہو گا تو اس کا مطلب ہے کہ فلم میں دکھائے گئے عدالت میں موجود اسٹاف اور جج  صاحب سب اس کو کیس لڑنے سے روک نہیں سکے۔

 شانی اس جیت کے بعد کیس ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے باوجود اس کے کہ اس کے پاس لاء کہ نہ تو کوئی ڈگری ہوتی ہے اور نہ ہی وکالت کا لائسنس۔  اس کے باوجود اس کو پبلک انٹرسٹ کے کیسسز ملنا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ کیس جیت کر مشہور ہو جاتا، اس کی خبریں میڈیا پر ہید لائنز کی شکل میں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کم و بیش وہ چھ سے سات مرتبہ مختلف عدالتوں میں پیش ہو کر کیسز جیت جاتا ہے اور مشہور ہوتا جاتا ہے لیکن مجال ہے کسی بھی بار کونسل، ایسوسی ایشن، وکیل، جج صاحب یا کورٹ کلرک کو اس کے جعلی ہونے کا اندازہ بھی ہوا ہو۔ یہ سب دکھا کر نہ صرف کورٹ پروسیجرکا مذاق اڑایا گیا ہے۔ عدلیہ اور وکلاء کی تضحیک اور توہین کی گئی ہے۔  کیا صرف فلم کے شروع میں ڈسکلیمر دے دینا ہی کافی ہے کہ اس فلم کا مقصد کسی بھی پیشے یا ادارے کی تضحیک کرنا نہیں اور اس کے بعد پوری فلم میں معزز عدلیہ اور وکالت جیسے مقدس پیشے کا انتہائی بھونڈے اور قابل اعتراض طریقے سے مذاق بنا دیا جائے؟

  مہوش حیات نے اس فلم میں بھرپور اوور ایکٹنگ کے جوہر دکھائے ہیں۔ وہ مینا نامی لڑکی جو ایک ٹی وی چینل کی رپورٹر ہوتی ہے، کا کردار نبھا رہیں ہیں۔ مینا شانی کے پہلے کیس پر رپورٹ تیار کر کے جب اپنے باس سے اس خبر کو چلانے کے  لئے بدتمیز اور بحث کرتی ہے تو اس کو چینل سے نکال دیا جاتا ہے۔ باس اس کی خبر کو آن ائیر کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد مینا کے نکالے جانے کے باوجود اس کی خبر کا ویڈیو بیپر اسی چینل پر چلا دیا جاتا ہے

 “جا کر اپنے ہاتھ سیکو” اور ” وہ لڑکا ادھر دیکھ رہا تھا جہاں کوئی بھی نہیں دیکھتا” اور “تم ہو ہی اب ایسی اور دوپٹہ بھی نہیں لیتی تو لوگ تو دیکھیں گے” جیسے فکرے بھی اس فلم کاحصہ ہیں۔ بازار میں شانی کے ساتھ ہونے والی دست درازی کا سین بھی فلم کا حصہ ہے۔

کمرہ عدالت میں ایک سوچ آف موبائل فون کا پوسٹر لگا دکھایا گیا ہے جس کا رخ عدالت میں حاضرین کے بجائے جج صاحب کی ہی جانب ہوتا ہے۔

بھارتی فلم  کے کاپی سین اور فقرے  

  جب شانی کے بارے میں مدثر سلطان جو فلم میں بولڈ نیوز کا پرائم ٹائم اینکر دکھایا گیا ہے شانی کی اصلیت پر بریکنگ چلاتا ہے تو شانی  کے خلاف مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں اور بالآخر وہ خود گرفتاری دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔  جب وہ خود کو پولیس کے حوالے کرتا ہے تو وہ سین راک سٹار کا کاپی لگتا ہے۔ اس کے بعد جب جو فقرے ایک خاتون رپورٹر اس کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے پر بولتی ہے وہ سن کر بھی گمان ہوتا ہے کہ راک سٹار سے کاپی کئے گئے ہیں۔  شانی کی گرفتاری کے بعد خاتون رپورٹر اس کے گھر پہنچتی ہے تو شانی کا والد دروازے میں سے باہر دیکھتا ہے تو رپورٹر اس کے آگے مائیک کر کے اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر اس کے ساتھ کیمرہ مین اپنا کیمرہ شانی کے والد کی جانب گھمانے کی بجائے رپورٹر پر ہی رکھتا ہے

اس فلم میں قومی پرچم کے تقدس کی پامالی اور مقدس پیشوں کی تضحیک کرنے پر متعلقہ اداروں کو نوٹس لینا چاہیئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ کسی کو بھی ایسی فلم بنانے اور سنسر بورڈ کو پاس کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے کہ جس سے قومی وقار اور تشخص کو نقصان پہنچے۔ چند ماہ قبل فلم مالک کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی تھی اور وجہ بتائی جارہی تھی کہ اس میں عام آدمی کو قانون ہاتھ میں لے کر ایک وزیر کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا  ہے۔ اگر فلم مالک پر اس بات پر پابندی لگ سکتی ہے تو قومی پرچم تو ہماری پہچان ہے، ہماری شان ہے اور اگر کسی فلم میں اس کے بارے میں غیر مہذب زبان استعمال کی گئی ہے  تو اس پر فورا ایکشن ہونا چاہیئے اور فلم بنانے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیئے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسا خیال بھی دل میں نہ لائے۔

یوں تو کہا جارہا ہے کہ پاکستان میں سینما کا ریوائیول ہو رہا ہے، نئے آڈیاز پر فلمیں بن رہی ہے مگر ایکٹر ان لاء جیسی فلم دیکھنے کے بعد شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں سینما کے حقیقی ریوائیول  کے لئے ابھی بہت وقت درکار ہے۔ پاکستانی سینما کے اس سو کالڈ ریوائیول سے فلمی صنعت ترقی کی جانب بڑھنے کی بجائے مذید تنزلی کی جانب بڑھے گی۔  حالیہ دنوں میں بننے والی اکثر فلموں کا تجزیہ کیا جائے تو ہر فلم میں ایکٹروں کی تو بھرمار مگر ایکٹنگ کا فقدان نظر آتا ہے۔ کمزور ڈائیلاگز، سٹوری لائنز، کوریوگرافی، سینیمیٹو گرافی اور معاشی یا سیاسی مسائل پر چوٹ کرتی فلموں میں جامع تحقیق کی کمی واضح نظر آتی ہے۔ ایکٹر ان لاء کے بارے  آخر میں صرف اتنا کہتا چلوں کہ یہ ہر لحاظ سسے بھونڈی اور بے ہودہ فلم ہے، لہذا اس کو دیکھنے کے لئے اپنی سینما ٹکٹ ضائع اور وقت برباد مت کریں۔