ahmadjawad

Politics, International Affairs, Sports, Media, Education

Music — September 19, 2016

Music

Loud on ear drums
It goads my soul,
Stirs my imagination,
Sets body on fire!
Music un-chains me
Into another world!
Far, far away where
I dance and dwell.

Advertisements
A Pure Fiction (Episode: The Return of the Guilt) —

A Pure Fiction (Episode: The Return of the Guilt)

And then one evening she returned after a long hiatus but not with the intention of staying forever but to test my nerves and drain the rest out of me that was ever left. I knew her and knew her more than she could herself. That time I didn’t plead her to stay but helped her to take an exit, quicker.

She was angry for I hadn’t shown enough respect on her arrival back. She wanted me to feel guilty again but for the crimes which I had never committed. She pretended that she was offended because of my insensitivity towards her gesture of compassion.I knew that respect and sensitivity were left no more and a reason for her return had vanished long ago.

I had learnt a lot from her because whom one loves with deepest of one’s heart; learns a lot from their actions. By that time I had grown enough as to respond not in words but in actions similar to that of hers. Those actions which she used to manipulate during long time of seven years of my true love for her. Even after she left….. (To be Continued)

A Pure Fiction (Episode#1) — June 8, 2016

A Pure Fiction (Episode#1)

I usually don’t sleep at noon. Today, I was tired, depressed and broken. Everything seemed falling apart despite so much effort. I was homesick, I missed someone. My brain had reached a threshold where from it could burst any moment. I had decided to finally quit from whatever in numbers and pictures I was pursuing. With that thought, I lied down on the bed, shattered to the very core. I needed some respite, I started fondling with my chest hair which gave me a bit of feeling for the nap.

After sometime I was on a road with some of my mixed aged friends. We were heading towards a hilly area where I had been before. We all seemed strong, energetic and fit for the road journey. The road was smooth and hardly had any tangent with lush greenery all around. Suddenly the road abruptly sloped and everyone of us was struggling climbing up till I realized that one friend of mine was holding me wrist tight and making a double effort to climb the slope; he was pulling me hard and desperate.

I urged him to leave me at my own shouting at him that I knew the area and I could accomplish the slope with my own effort and skill but he kept pulling me up. I was angry at and abusive towards him although having looked back I had a very strong gut feeling that if he wouldn’t had carried me along, I would had been no more because there was no road behind me but an unfathomable deep ditch. The road we had followed through had completely disappeared; there was no going back.

Later, I felt my feet on a flat and stable ground; I was safe and sound. We were four but I could recognize the face of only one friend. He was not the one who had pulled me up from the looming death. He was the eldest of us. He was….. (To be continued)

بندر کے ہاتھ ماچس۔۔۔۔انسان کے ہاتھ ماحول — June 5, 2016

بندر کے ہاتھ ماچس۔۔۔۔انسان کے ہاتھ ماحول

Save The Earth

الگور اور بش کے درمیان امریکی صدارت کے لئے کانٹے دار مقابلہ جاری تھا، فلوریڈا کی ریاست آخری تھی جہاں امریکی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر بش کو امریکہ کا نیا صدر ڈیکلیئر کر دیا کہ اس ریاست کی کئی کاونٹیز میں گنتی کے دوران قواعد و ضوابط پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا۔ الگور نے ری کاونٹ کی اپیل کی مگر مسترد کر دی گئی۔ الگور کہتے ہیں کہ یہ ان کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا، انہوں نے عدالت کا فیصلہ قبول کر تو لیا لیکن ان کو اس فیصلے سے سخت اختلاف تھا۔  ان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس کے بعد کیا کریں، لیکن وہی کرنا تھا جو عمر بھر ان کی زندگی کا مشن رہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے عالمی ماحولیاتی تبدیلوں پر لیکچر دینا شروع کر دیا۔ انہوں نے زندگی بھر ماحولیاتی تبدیلی کے مختلف وجوہات اور پہلووں پر گہری تحقیق کی۔ اس پر ان کو بش سینئر جیسے سیاسست دانوں تک سے سخت جملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

Al Gore

الگور کی ڈاکیومینٹری ” این ان کنوینیئنٹ ٹروتھ” سال دو ہزار چھ میں ریلیز ہوئی جس میں انہوں نے انتہائی تفصیل سے ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں بالخصوص گلوبل وارمنگ پر معلومات فراہم کی ہیں۔ الگور کہتے ہیں کہ دنیا کا ہر شخص ماحولیاتی تبدیلی جس کی سب سے بڑی وجہ گولبل وارمنگ ہے، میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے، لہذا ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے تمام پہلوں کو سمجھے اور اس کو روکنے کے لئے اپنا مصبت کردار ادا کرے۔ انہوں نے اپنی اس ڈاکیومنٹری میں امریکہ ، جو “کیوٹو پروٹوکول” کو ریٹی فائی نہیں کرتا کے پالیسی میکرز کو سخت حرف تنقید بنایا ہے اور اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ صرف دہشت گرد ہی امریکہ کے لئے خطرہ نہیں بلکہ ایسے مسائل بھی ہیں جس سے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے وجود کو خطرہ ہے۔ انہوں نے بڑے واضح طور پر بتایا کہ امریکہ گلوبل وارمنگ کی سب سے بڑی وجہ بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا صف اول کا ایمیٹر ہے اور اگر پالیسی میکرز نے خطرے کے سنگینی کو بروقت سمجھ کر اس کا حل نہ نکالا تو فلوریڈا اور مین ہیٹن جہاں وڑلد ٹریڈ سنٹر میموریل قائم ہے جیسی اہم جگہیں پانی میں ڈوب جائیں گی۔ الگور کہتے ہیں کہ امریکی شہری اس بات کو سمجھتے ہیں اس لئے ذیادہ تر شہروں نے کیوٹو پروٹوکول کو ڑیٹیفائی کر رکھا ہے مگر امریکی حکومت آسٹریلیا کی حکومت کی طرح اس کو ریٹی فائی نہ کرنے پر بضد ہے۔

Pollution

صدیوں سے یہ بات محقیقین اور سائنس دانوں کے درمیان زیر بحث رہی ہے کہ کیا اینوائرمنٹ یعنی ماحول مکمل طور پر انسانی زندگی پر اثر رکھتا ہے یا پھر انسان اپنی مرضی سے اپنے ماحول کو ڈھال اور استعمال کر سکتا ہے۔ اینوائرمنٹل ڈیٹرمینزم کا پرچار کرنے والے کہتے ہیں کہ انسان  ماحول کے سامنے بے بس ہے اور ماحول پورے زور اور طاقت کے ساتھ انسان کی زندگی اور قسمت کے راستوں کا تعین اور فیصلہ کرتا ہے۔ پھر کلچرل ڈیٹرمنزم کا نظریہ ابھرا کہ انسان اپنی مرضی سے جو چاہے کر سکتا ہے، اینوائرنمنٹ کا اس پر خوئی خاص اثر نہیں۔ اس نظریے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو کلچرل ایکالوجی یا پراببلزم کا نظریہ منظر عام پر آیا جس کو کہا جا سکتا ہے کہ وہ پہلے دو نظریوں یعنی اینوائرمنٹل ڈیٹرمینزم اور کلچرل ڈیٹرمینزم کا مکسچر ہے، یعنی کہ انسان کی زندگی پر ماحول ضرور اثر انداز ہوتا ہے  ۔ مگر انسان کی مرضی بھی ماحول پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتی ہے

 اقوام متحدہ کے زیر اثر رکن ملکوں کا ایک پینل کام کر رہا ہے جس کو انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائیمیٹ چینج کہا جاتا ہے جو ہر چار سے پانچ سال کے بعد دنیا بھر میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرتا ہے۔ یہ پینل یونائیٹڈ نیشنز فریم ورک کنوینشن آن کلائمیٹ چینج وضع کرنے کے بعد بنایا گیا۔ یہ پینل دنیا بھر کے صف اول کے کلائمیٹ سائنٹسٹس کے پیئر ریویوڈ جرنلز میں چھپنے والے آرٹیکلز پر ایک جامع رپورٹ تیار کرتا ہے۔ اس پینل کے چار بڑے ورکنگ گروپس ہیں، جن میں سے ایک فزیکل سائنس یعنی کہ کونسے ایسے فزیکل پراسس ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں، دوسرا ان پراسسز کے اثرات، نتائج اور ممکنہ خطرات اور تیسرا ان تمام عوامل سے نمٹنے کے لئے طریقہ کار کے بارے میں اپنی اپنی رپورٹ پیش کرتا ہے۔ ان تمام رپورٹس کو سامنے رکھ کر ایک مشترکہ رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔ اس رپورٹ میں درج چند چیدہ چیدہ حقائق آپ کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔

UNFCC

ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار مسلسل بڑھ رہی ہے جس کی بڑی وجہ انسانی مداخلت ہے۔ پچھلے پچاس سالوں کے دوران، فضا اور سمندر گرم ہوئے ہیں، گلیشئرز اور برفانی تودے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ سمندر کی سطح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اور گرین ہاوس گیسز کی مقدار بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔  پچھلی صدی میں سمندر کی سطح میں  اضافہ یعنی اعشاریہ ایک نو فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ، صنعتی ترقی شروع ہونے سے پہلے کی نصبت چالیس فیصد بڑھی ہے جس کے نتیجے میں سمندر کے پانی کی تیزابیت میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ قرہ ارض کے شمالی حصے میں پچھلے چودہ سو سالوں میں سے پچھلے تیس سال گرم ترین ریکارڈ کئے گئے۔ آرکٹک اور گرین لینڈ کے گلییشئرز بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ رپورٹ کہتی ہے کہ یہ سلسلہ اگر ایسے ہی جاری رہا تو دنیا بھر میں بارش کا نظام، فصلوں کی پیداوار، سمندر کے پانی کی گرمائش اور تیزابیت اور سی لیول، کاربن سائیکل بری طرح متاثر ہوں گے۔

IPCC_fig2-3_140years

 رپورٹ کا دوسرا حصہ کہتا ہے کہ یہ پراسس کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہر لمحہ ہو رہا ہے، اس بات کی نشاندہی الگور نے “گلوبل فنامینن” کہہ کر کی ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ اس طرح بارشوں میں پہلے تو تیزی آئے گی بعد میں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور دنیا بھر کے لوگ ایسے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان تبدیلیوں سے قدرتی آفات میں اضافہ ہو گا اور غریب اور متوسط طبقے کے لوگ سب سے پہلے نشانہ بنیں گے۔

SLR_models_obs

    رپورٹ کہتی ہے کہ کاربن ایمیشنز پچھلی ایک دھائی میں ذیادہ ہوئیں ہیں اور اس پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجیکل تبدیلیاں متعارف کروانے سے درجہ حرارت کو دو ڈگری سنٹی گریڈ کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔  اور اس کے لئے کاربن ایمشنز کو دو ہزار دس کی نصبت نصف صدی تک تیس سے چالیس فیصد کم کرنا ناگزیر ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے کے لئے صنعت، ٹرانسپورٹ، بلڈنگ، زمین کے استعمال اور انسانی آبادیوں میں صاف توانائی کے ذرائع کا استعمال اہم کردار اداکر سکتا ہے۔

 اقوام متحدہ کی جانب سے بنائے جانے والے پوسٹ دوہزار پندرہ ڈویلپمنٹ ایجنڈے کی۔ اس ایجنڈے کے تحت سترہ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز بنائے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک ان کو اپنی پالیسیز میں شامل کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہ گولز میلینئم ڈویلپمنٹ گولز کا ادھورا ایجنڈا پورا کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ اگر ماحولیات کے تناظر میں غور کیا جائے تو ان سترہ گولز میں سے تقریبا تمام ہی بالواسطہ یا بلاواسطہ ماحول سے جڑے ہیں۔ سب سےاہم گول نمبر تیرہ؛ کلائمیٹ چینج کےحوالے سے ایکشن ہے۔ کلائمیٹ چینج پر قابو پا لیا جائے تو باقی تمام گولز جن میں غربت پر قابو، بھوک کا خاتمہ، اچھی صحت، پینے کا صاف پانی وغیرہ شامل ہیں سب اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ کیونکہ اگر ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلی پر قابو نہ پایا جاسکا تو اس زمین کا وجود مکمل خطرے میں پڑ جائے گا، پھر نہ زمین رہے گی، نہ اس کے وسائل اور نہ ہی انسان زندہ رہے پائے گا۔

Chart_of_UN_Sustainable_Development_Goals.png

حال ہی میں پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ سائن کیا گیا جس پر ایک سو ستتر ممالک نے دستخط کئے جبکہ پندرہ ممالک نے ابھی تک اس کو ریٹیفائی کیا ہے۔ اس ایگریمنٹ کے آرٹیکل دو کے مطابق کاربن ایمیشنز کو صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرات سے اوپردو ڈگری سنٹی گریڈ تک روک کر رکھنا ہے، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے تیاری اور وسائل بروئے کارلانا، اور کاربن ایمیشنز کی کمی کے لئے چھوٹے ممالک کے لئے مالی امداد فراہم کرنا شامل ہے۔ یہ ایگریمنٹ دو ہزار بیس سے اس وقت لاگو ہوگا جب اس کو کم سے کم پچپن ایسے ممالک جو کاربن ایمشنز کے پچپن فیصد حصے کے ذمے دار ہیں، اس کو ریٹیفائی کر کے اس کا اطلاق کرتے  ہیں۔ یو این ایف سی سی کے تحت ایک گرین کلائمیٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے جس کا ہدف ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لئے سالانہ فنڈنگ ایک سو بیلین ڈالر فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کو خاصی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کو تجویز کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر ترقی یافتہ ممالک نیک نیتی کا مظاہرہ کریں تو پوری نہ بھی سہی؛ اس کے آس پاس رقم بھی اکٹھی کر لی جائے تو بھی مسائل پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

Paris Climate Change.jpg

اینوائرنمنٹل ایشوز میں صرف کلائمیٹ چینج یا گلوبل وارمنگ ہی نہیں بلکہ، ڈی فاریسٹریشن، ڈیزرٹیفیکیشن، خشک سالی، اوشن ایسڈیفیکیشن، ڈیپلیشن آف ریسورسز اور ایکسٹنکشن آف سپیسیز یعنی مخلوقات کا ناپید ہونا بھی شامل ہیں۔ یہ تمام ایشوز کسی نہ کسی حوالے سے کلائمیٹ چینج اور گلوبل وارمنگ سے جڑے ہیں۔ جیسے جیسے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھتی جاتی ہے تو درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے جس کے باعث نمی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ سب ملکر زندگی کے لئے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ ایکسٹنکشن آف سپیسیز کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے اور دوسری ہے ہاتھی، گینڈے، ہرن اور اس طرح کے کئی جانوروں کا شکار جن کو انسان  کو ہونے والے مالی فوائد کی وجہ سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔  کچھ عرصہ پہلے کینیا میں ایک سو پانچ ٹن ہاتھی دانت اور ایک اعشاریہ تین پانچ ٹن گینڈے کے سینگوں کو نذر آتش کر دیا گیا، اس کا مقصد تھا دنیا کو پیغام دینا کہ ہاتھی دانت اور گینڈے کے سینگ کسی کام کے نہیں بلکہ ہاتھی اور گینڈے کی بقا ضروری ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پچھلے سال دنیا بھر میں کل پچیس ہزار چھ سو میں سے ایک ہزار تین سواڑتیس گینڈے مار دیئے گئے۔ جبکہ ہاتھیوں کی کل تعداد چالیس لاکھ کے قریب ہے اور پچھلے سال پانچ میں سے ایک ہاتھی کا شکار کیا گیا۔ اس سال ورلڈ اینوائرمنٹ ڈے کا تھیم ہے “جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف جنگ ہے۔

Ivory Set Ablaze

ان تمام اعداد و شمار اور حقائق کو سامنے رکھنے کے بعد اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ انسان اپنے ماحول کو مسلسل تباہ کر رہا اور جب سے اس نے ٹیکنالوجی اور صنعت میں تیزی سے ترقی کی ہے تب سے اس دنیا کی آبادی میں جیومیٹرک اضافہ ہوا ہے۔ آبادی بڑھنے سے ضرورتیں بھی اتنی ہی بڑھی ہیں، لیکن قدرتی وسائل اریتھیمیٹک سیکیونس سے بڑھتے ہیں لہذا وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے قدری وسائل کا استعمال ںئی ٹیکنالوجی مگر پرانے انداز سے کر رہا ہے۔ مادہ پرستی میں اضافہ انسان کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ انسان شہر میں بسنے تو آگیا لیکن شہر میں رہنے کا طریقہ نہیں سیکھ سکا۔ سونے اور جواہرات کے حصول کی خاطر اس نے زمین کے سینے کو وار کر کر کے چھلنی کر دیا ہے۔ اپنی مصنوعی صنعت کا پہیہ چالو رکھنے کے لئے اس نے قدرتی وسائل کو جلا جلا کر فضا میں اڑا دیا ہے اور اب چاروں طرف گہر کا سا عالم ہے اور سائنس دان کہتے ہیں کہ ترقی کی یہی رفتار اسی انداز سے رہی تو اگلے پچاس سال میں یہ زمین انسان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گرمی سے پھٹ جائے گی، نہ سانس لینے کے لئے صاف ہوا میسر ہو گی نہ ہی پینے کو صاف پانی تب سونا یا تیل کسی کام نہیں آئے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آنے والی نسلوں کے لئے پیسہ جمع کرنے کی بجائے ان کو اس زمین کا اصل معنوں میں تحفظ کرنے کا سبق سکھائیں خود مثال بن کر دکھائیں۔  زمین پر بسنے والی ہر شے سے محبت فرض ہے اور محبت ضائع نہیں کی جاتی۔

(جواد تہامی)

 

سائیکل چوری اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ محمد علی کی وفات — June 4, 2016

سائیکل چوری اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ محمد علی کی وفات

میں اکھاڑے میں ہونے والی جیت کا قائل ہوں نہ کہ جنگ میں جیت کا کہ جس میں صرف صرف قتل کیا جاتا ہے.” یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جس نے باکسنگ رنگ میں بڑے بڑے سورماوں کو چاروں شانے چت کیا لیکن جب بات آئی انسانیت کے قتل کی تو اس نے اپنے ملک کا سپاہی بن کر ویتنام کے لوگوں کا قتل کرنے سے صاف انکار کر دیا. اس کے ٹائٹل واپس لے لئے گئے اور پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی لیکن وه اپنے عزم کا تحفظ ایک مضبوط چٹان کی طرح کرتا رہا. اس کا نام اتنا بڑا ہوا کہ ہالی وڈ والک آف فیم میں جب اس کا نام درج کیا جانے لگا تو اس نے اپنا نام لکھوانے سے انکار کر دیا. وجه تھی حضرت محمد (ص) سے والہانہ عقیدت. آج محمد علی وه واحد شخصیت هے جس کا نام والک آف فیم میں نهیں بلکہ اس کے ساتھ دیوار پر کنده ہے.

mohammad ali walk of fame

محمد علی کا باکسر بننا ایک ڈامائی واقعے کا هونا تھا. سی این این کے مطابق محمد علی کی عمر جب باره سال تھی اور امریکہ میں نسل پرستی اور تعصب اور اس سے ہونے والے فسادات اپنے عروج پر تھے، کسی نے ان کی سائیکل چوری کر لی. پولیس آفیسر سےبولا که میں چور کو بہت ماروں گا. پولیس والے نے یہ کہه کر جم میں بھیج دیا که پہلے مارنا تو سیکھ لے. سی این این کہتا هے کہ اس دن کے بعد وه غصہ تھا جو ایک باره سالہ لڑکے کو اس صدی کا سب سے بڑا انسان بنا گیا. آج امریکه کے لوگ اور میڈیا اس بات کا معترف هے کہ محمد علی نے جس نظریہ کا عملی مظاہره کیا اس کی ستائش لفظوں میں ممکن ہی نہیں. آج وه ستاره جو کسی کے قدموں میں نہیں بلکہ سب سے اونچا  دیوار پر کنده ہے اس دنیا سے رخصت ہوا تو سب کہہ رہےہیں که وه صرف ایک بڑا باکسر ہی نہیں ایک عظیم ترین انسان  بھی تھا.

Mohammad Ali

اتنا ذیاده مجھے محمد علی کے بارے میں علم نهیں تھا لیکن جب آج جب وه دنیا سے رخصت ہوئے تو میں ان کی زندگی سے حاصل ہونے والے اسباق کی ایک لسٹ تیار کر رہا ہوں کیونکہ کسی نے مجھ سے بھی کچھ چھینا تھا اور وه چہرهہمیرے دماغ سے نکلتا نہیں. محمد علی میں آج آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی سپرٹ اور روح ہمیشه زنده رهے گی کیونکه آپ هی کہا کرتے تھے کہ انسان تو مر سکتا هے مگر اس کا عزم مر اور روح ضائع نہیں ہو سکتی. سلام اے عظیم انسان.
(جواد تہامی)

تعلقات سے روئیے یا روئیوں سے تعلقات؟ — May 19, 2016

تعلقات سے روئیے یا روئیوں سے تعلقات؟

آپ نے اکثر سنا اور دیکھا ہو گا کہ کوئی انسان جب کامیاب ہو جائے یا کسی چیز کو حاصل کر لے تو لوگ کہتے ہیں کہ اس کا رویہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ یکسر بدل گیا ہے۔ یہ بات کئی مثالوں میں درست بھی دکھائی دیتی ہے اور کئی میں بالکل غلط کیونکہ اس صورت میں وہ صرف لوگوں کا اپنا گمان ہوتا ہے۔
اب ذرا ایک اور صورت پر غور کیجئے کہ اگر کسی انسان کا کوئی کام ایک لمبے عرصے اور بڑی کوشش کے بعد مکمل ہونے لگے یا اس کو وہ چیز حاصل ہو جائے تو اس کے روئیے کے برعکس ان لوگوں کا رویہ اس کے ساتھ یکسر تبدیل ہو جاتا ہے، حیرانگی کی بات یہ ہوتی ہے کہ ان میں اکثر وہی لوگ ہوتے ہیں جو انسان کے مشکل وقت میں تو بظاہر اس کے خیر خواہ ہوتے ہیں اور ہر دم کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جیسے ہی انسان کو خوشی مل جائے، کامیابی حاصل ہو جائے تو یہی لوگ اس انسان سے ناراض ہو جاتے ہیں یا غصہ کھا جاتے ہیں۔
depressed young man sitting on the bench
اب ایک اور صورت حال پر غور کیجئے کہ انسان چاہے مسسلسل جدو جہد کے عمل سے گزر رہا ہو، ناکام بھی ہوتا ہو، کبھی کبھی کمزور اور نڈھال بھی پڑتا ہو یا پھر کبھی کامیاب ہو جائے، کچھ حاصل کر لے تو چند ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑتے، ہر دم ہر وقت نہ صرف دعاووں سے بلکہ ہر ممکنہ طریقے سے اس کے مدد کرتے ہیں، اس کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور نہ ہی اس کی کامیابی کا سہرا اپنے سر لیتے ہیں اور نہ ہی اس کی ناکامی پر اس کو اکیلا چھوڑتے یا طعنے دیتے ہیں۔ آپ جو بھی ہوں وہ آُپ سے ہر  ح حال میں خوش رہتے ہیں۔
اب یہ فیصلہ انسان کے خود کے اوپر ہے کہ وہ ان میں فرق کیسے کرتا ہے۔ پہلی دو صورتوں میں انسان کے تمام تعلقات محض کسی لالچ، فائدے یا جسمانی، ذہنی یا معاشرتی حالت کی تسکین سے جڑے ہوتے ہیں اور ایسے تعلقات نہ کبھی کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی ہو سکتے ہیں۔ ایسے تمام تعلقات کو اپنے ہی ہاتھ سے گلا گھونٹ کر ان سے ہمیشہ کے لئے کنارہ کر لینا چاہئے۔ کیونکہ ایسے تعلاقات قائم کرنے والے شاید ایک حقیقت سے نظریں چرا رہے ہوتے ہیں کہ کوئی کام، کوئی کامیابی، کوئی ناکامی اس دنیا کی آخری نہیں ہوتی۔ جب تاک سانسیں چلتی رہتی ہیں اور ہمت اورحوصلہ قائم رہتا ہے انسان کچھ بھی، کبھی بھی حاصل کر سکتا اور چھوڑ سکتا ہے۔
رہی بات آخری صورت کی تو بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو ایسے تعلقات عطا ہوتے ہیں۔ بس ان کی خاص نگہداشت کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ وہ تعلقات ہوتے ہیں جو ازل سے ابد تک اور لافانی ہوتے ہیں، زندگی کی علامت ہوتے ہیں جبکہ باقی دو
صورتیں صرف اور صرف مایوسی کا سبب بنتی ہیں۔
(جواد تہامی)
Queen of the Desert (Review) — February 24, 2016

Queen of the Desert (Review)

Queen of the DesertA chronicle of a character as powerful as an eye of a hurricane that it pulled everything and everyone around it into its whirlpool wherever it landed. A genius of direction goads the very fabric of viewer’s soul by meticulously intertwining the palpitations and occasional laughter generated by, through and around this character. The story of a heartbroken turned brave and bold woman of the British empire whose abode became the desert of Arabia  and she delineated its very map is simply awe-inspiring. The loads and the charms of such a persona faithfully performed by Nicole Kidman sends out waves to those confronted with inner conflict to develop a deeper level of understanding and focus through hard work and restraint over the self but courtesy towards others. The purposefully synchronized audio inserts and melancholic sound pieces send a chill deep down the spine. The poetic punch liners with painstakingly chosen visuals and symbols have got the elements of hypnotism. Let me now take the liberty of stealing a line from the movie;”It’s what you and your world wouldn’t understand”.Perhaps that is why this movie is rated as low as 5.8/10 at IMDb but such a  master work deserves at least 9/10. This movie might be a life changer for many as it touches the very core of human existence because the poetry of life is generated where freedom is and in freedom dignity nurtures.