دنیا میں ہونے والے بڑے حسن کے مقابلوں میں سب سے ذیادہ مرتبہ یعنی اکیس مرتبہ فاتح قرار پانے والی حسن کی دیویوں کا تعلق لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا سے ہے۔ دنیا کی حسین ترین عورت یا لڑکی جو بھی کہہ لیجیئے دنیا بھر میں شہرت اور پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہوتی ہی ہے مگر کیا ملکہ حسن کے تاج کے حصول کے لئے اس کو کسی مشکل سے گزرنا پڑتا ہے یا بس ایسے ہی اس کو یہ تاج سونپ دیا جاتا ہے؟وینزویلا میں ملکہ حسن کی تیاری کے لئے ایک درد ناک اور ہو شربا طریقہ کار مروج ہے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو ملکہ حسن بنانے کے لئے بارہ سال کی عمر سے ہی اکیڈیمیز میں بھیجتے ہیں۔ ان لڑکیوں کی مائیں خود انہیں ایسے ہارمونز دیتی ہیں جو ان کو بلوغت تک پہنچنے میں تاخیر کو یقینی بناتے ہیں۔ پھر ان کی آنتوں کا ایک حصہ کاٹ کر باہر نکال دیا جاتا ہے تاکہ خوراک کم سے کم ہضم ہو پائے۔ ان کی زبان پر پلاسٹک کی جالی لگا دی جاتی ہے جس کے باعث ان کو خوراک کھانے میں تکلیف کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ کم سے کم کھا سکیں۔ ان کی کمر کے ارد گرد پلاسٹر بھی باندھ دیا جاتا ہے تاکہ کمر ایک حد میں رہے۔ بالکل ایسے ہی کئی اور اعضا کی پلاسٹک سرجری سے ان کو ملکہ حسن کے مقابلوں میں شرکت کے قابل بنایا جاتا ہے اور پھر لاطینی امریکہ کا ملک دنیا کے باقی تمام ممالک پر بازی لے جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں لڑکیوں کے والدین برھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اور یہ رجحان چند خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ وینزویلن معاشرے میں اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ نا صرف شہرت اور پذیرائی بلکہ دولت کمانے کا ایک موثر ترین طریقہ تصور کیا جاتا ہے۔  یورپ کے ملک اسپین کے موجودہ بادشاہ فلپے سکس کو سال دو ہزار چودہ کے جون میں بادشاہت کا تاج سونپا گیا۔ ان کی اہلیہ یعنی ملکہ اسپین لیٹزیا اورٹز کا تعلق ایک متوسط خاندان سے تھا؛ جرنلزم میں ڈگری حاصل کرنے بعد انہوں نے شعبہ صحافت میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے سی این این اور اے بی سی جیسے کئی بڑے میڈیا آرگنائزیشنز کے لئے کام کیا۔ پھر ان ،ملاقات ایک شہزادے سے ہوئی اور شہزادے نے اینکرنگ/رپورٹنگ میں نام پیدا کرنے والی ایک عام گھرانے کی ایک طلاق یافتہ عورت سے شادی کرے اس کو شہزادی بنا دیا۔ اور پھر انیس جون دو ہزار چودہ کو وہ ملکہ اسپین کا تاج اپنے سر پر سجائے ہوئے تھیں۔

 کہتے ہیں صحافیوں اور خاص طور پر خواتین صحافیوں کی رسائی بڑی دور تک ہوتی ہے اور اسی طرح بڑے بڑے لوگوں جن میں سیاست دان، شہزادے، کرکٹرز، فٹبالرز، ایکٹرز، کارپوریٹ ٹایکونز ، کامیاب وکلاء، ججز اور جرنیل شامل ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جرنلزم کے شعبے میں ترقی کرنے اور نام کمانے والوں میں خواتین صحافی مردوں کی نسبت ذیادہ تیز رفتار ثابت ہوتی ہیں۔۔ آجکل ویسے پاکستان میں ٹاک شوز بھی ایک نیا رجحان اختیار کر رہے ہیں؛ یعنی کسی بڑے تجزیہ کار کے پروگرام میں ایک فی میل ہوسٹ کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔

پاکستان میں سال دو ہزار چودہ کے آخری مہینوں کے دوران دھرنوں کے کافی چرچے رہے۔ ان دھرنوں کے وجہ سے کئی خواتین کو ریلیوں اور جلسوں میں مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی خبریں بھی سامنے آتی رہیں شاید اس لئے کے خواتین رپورٹرز اور اینکرز ان میں بڑھ چڑھ کر صحافتی ذمہ داریاں سر انجام دیتی رہیں؛ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ مالکان اس لئے خواتین رپورٹرز کو فیلڈ میں بھیجتے تھے کہ شاید کچھ خاص پارٹیوں کے بپھرے اور مشتعل کارکنان نظم و ضبط اور صحافیوں سے حسن سلوک کا مظاہرہ کریں۔

پھر اچانک ایک انسانیت سوز حادثے کے بعد دھرنا ختم کرنے اعلان کر دیا گیا لیکن پارٹی کے کارکن خواتین سے مہذب طریقے سے پیش آتے نہ آتے؛ پارٹی کے سربراہ نے خواتین صحافیوں کی کس طرح عزت کرنے ہے کی نئی واضح مثال قائم کر دی۔ کئی ماہ سے ہوا میں گردش کرنے والی افواہوں کی ایک برطانوی نشریاتی ادارے نے تصدیق کرتے ہوئے ایک خبر شائع کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک خاتون صحافی سے خفیہ شادی کر لی ہے۔ ان خاتوں صحافی کا نام ہے ریحام خان جو پاکستان کی سیاست پر ٹاک شوز کرنے سے پہلے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی پر موسم کے حالات سے ساوتھ ایشیا ریجن کے ناظرین کو آگاہ کیا کرتی تھیں۔ عمران خان نے نہ ہی اس خبر کی تصدیق اور نہ ہی تردید کی ہے البتہ برطانوی نشریاتی ادارے ڈیلی میل نے کچھ قریبی ذرائع سے اس بات کی تصدیق کرنے کے بعد خبر نشر کی۔ اس کے بعد عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ کی کہ ان کی شادی کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا ہے البتہ ریحام خان کا اس حوالے سے کوئی تصدیق یا تردید کا پیغام منظر عام پر نہیں آیا۔ عمران خان کے ٹویٹ پر غور کیا جائے تو انہوں نے اس بات کی تردید نہیں کی تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ان کی شادی کی خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے؛ اس کا مطلب تو شادی تو ہوئی ہے لیکن خبریں کچھ ذیادہ ہے دی جارہی ہیں۔ ایک اور نشریاتی ادارے کے رپورٹ کے مطابق ریحام خان نے عمران خان سے شادی کے بعد ملک کی اگلی خاتون اول بننے کی خواہش بھی ظاہر کر دی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ واقعی ملک کی اگلی خاتون اول بننے میں کامیاب ہو پائیں گی؟ اگر یہ خبر صحیح ثابت ہو جاتی ہے کہ وہ عمران کی اہلیہ بن چکی ہیں تو کیا ان کو اس بات کا پورا یقین ہے کہ وہی ملک کے اگلے وزیر اعظم کی بیگم ہوں گی اور اگر عمران وزیر اعظم نہ بن پائے تو کیا ریحام پھر بھی ان کا ساتھ نبھائیں گی یا جمائمہ کی طرح عمران کی ناکام سیاست کی وجہ سے انہیں چھوڑ جائیں گی؟ اور اگر وہ چھوڑ جائیں گی تو کیا جمائمہ کی طرح وہ بھی اپنے نام کے ساتھ سے خان کا لفظ ہذف کر دیں گی؟ شاید نہیں ان کا نام کے ساتھ تو پہلے ہی خان لگتا ہے۔ 

اب کچھ بات کر لیتے ہیں ان سوالات کی جو اس شادی کے بعد کارکنان تحریک انصاف ، ملک و قوم اور نئے بننے والے پاکستان پر اپنا اثر چھوڑیں گے۔ اگر یہ خبر ثابت ہو جاتی ہے اور عمران ملک کے اگلے وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ ریحام خان ملک کی خاتون اول بن جاتی ہیں تو کیا پھر نئے پاکستان میں اس پارٹی کے کارکنان کے لئے خواتین صحافیوں سے برتاو اور سلوک کی ایک نئی مثال قائم ہو جائے گی؟ کیا کارکنان خاتون صحافیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا شروع کر دیں گے؟ اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر کیا وینزویلا کی طرح اس ملک کے والدین بھی اپنی بیٹیوں کو صحافی بنانے بلکہ ایک کامیاب صحافی بنانے کے نہ صرف خواب دیکھنا بلکہ ان کو صحافتی ٹریننگ دینے والی اکیڈمیوں میں جوق در جوق بھیجنا شروع کر دیں گے؟ کیا وہ بھی کسی ملک کے شہزادے، بادشاہ یا اگلے وزیر اعظم کو اپنا داماد بنانے کے کے لئے اپنی بیٹیوں کو وینزویلا میں مروجہ طریقوں کی طرح طریقے سکھانے میں معاونت کریں گے؟ کیا نئے پاکستان میں لڑکیاں ایک کامیاب صحافی بننے کا خواب سجا کر معاشرے کے اندھا دھند ٹوٹکوں کا شکار تو نہیں بننا شروع ہو جائیں گی؟ اور اگر ہو جائیں گی تو کیا ان کو اس کے بدلے ملک کا اگلا وزیر اعظم بطور شوہر مل پائے گا؟ اور مل پائے گا تو ہمارا ملک نئے دور میں کتنے نئے وزیر اعظم اور کتنی صحافی خاتون اول پیدا کرے گا کیونکہ اس ملک میں تو جمہوریت ہے؛ اسپین کی طرح پادشاہی نظام تو نہیں۔ جمہوریت میں تو کارکنان اپنے رہنما کے کہی ہوئی بات یا کئے ہوئے عمل کا زبردستی یا دھونس سے، تقلید تو نہیں کرتے بلکہ دل سے اور خلوص نیت کے ساتھ کرتے ہیں اور نئے پاکستان میں تو سب کے حقوق برابر ہوں گے۔

Written and Published online: 01-01-2015

Advertisements