رومی فرماتے ہیں کہ محبت چہرے کی خوبصورتی دیکھ کر نہیں کرنی چاہئیے کیونکہ ظاہری حسن کو روح کی پاکیزگی اور دل کی شفافیت پر فوقیت دینے سے انجام صرف اور صرف رسوائی اور شرمندگی ہی ہوتا ہے۔

تازہ ترین مثال ریحام خان کی ملاحظہ کر لیجئے۔ وہ جو نیم برہنہ کپڑے پہن کر کھلے بالوں کے ساتھ مردوں کے ساتھ کھلے عام ڈانس کیا کرتی تھی۔ سکرٹس پہن کر گوروں کے ساتھ خبریں پڑھا کرتی تھی۔ جس کا پہلا امراض دماغ کا ڈاکٹر شوہر اس کو ایک نا شکری، لالچی، بے صبری، منہ پھٹ اور مغرور عورت کے القابات سے یاد کیا کرتا ہے؛ اس عورت نے اپنے ظاہری حسن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور نام نہاد پاکستانی طریقہ صحافت کے ذریعے راستہ ہموار کرتے ہوئے عوام کی ہر دلعزیز لیڈر پر دھرنے کی تھکاوٹ کے دوران جانے کون کونسا منتر پڑھ کر اس کو اپنے آپ پر فریفتہ کیا اور اس کی ساتھ عین اس تحریک کے دوران کہ جس سے اس ملک و قوم کے کروڑوں پسے ہوئے عوام کی تقدیر بدل سکتی تھی، اس لیڈر کے ساتھ نکاح کا ڈھونگ رچا کر اس کی خواب گاہ تک رسائی حاصل کر لی۔

 “ایسپیوناج” کا سب سے پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے لئے سب سے پہلے اس کا اعتماد اور یقین حاصل کیا جائے اور پھر اس کو اتنا پختہ کیا جائے کہ اس کو آپ پر رتی برابر بھی شک نہ ہو اور پھر موقع ملتے ہے اس پر وار کر دیا جائے۔ اور شادی سے بہترین اور جائز ترین ایسپیوناج کا طریقہ ریحام کے لئے اور بھلا کیا ہو سکتا تھا۔

کپتان کے اس پسند اور فیصلے پر اس کے چاہنے والوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ قوم کی جو ایک امید دہائیوں بعد بندھی تھی وہ ٹوٹتی ہوئی دکھائی دینے لگی۔ شکوک و شبہات اور وسوسوں کے ایک نئے سلسلے نے جنم لے لیا۔ کپتان کے ناقدین جو اندر ہی اندر سے تبدیلی کے حصول کی خواہش رکھتے تھے اور وہ نوجوان جو کپتان پر جان چھڑکتے تھے اس فیصلے سے بہت گھبرا گئے۔ خیر شادی ہو گئی اور پورے ملک کے نیوز چینلز شادی اسٹوڈیوز کی شکل اختیار کر گئے۔ اور سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔ کپتان کو چاہنے والوں کی اکثریت اس شادی سے صرف ناخوش ہی نہیں بلکہ مخالفین کے سامنے وہ بیک فٹ پر جاتے ہوئے دکھائی دی اور ان پر سوالات کی یلغار کر دی گئی۔

ریحام نے خان صاحب کے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ میڈیا کوریج ہونے لگی۔ جس تیزی کے ساتھ ریحام جن کو کھلاڑی بھی نیشنل بھابھی یا حسن نثار کے مطابق مادر ملت ماننے لگے اسی تیزی کے ساتھ ریحام پارٹی میٹرز اور ایونٹس میں شامل اور دخل اندازی کرنے لگی۔ کچھ عرصے بعد حالات نے اچانک کروٹ بدلی اور ان دونوں کی طلاق کی خبریں منظر عام پر آنا شروع ہو گئیں اور پھر ان کی تصدیق بھی ہو گئی۔

وہی ریحام جس نے نیشنل بھابھی بننے کے بعد اپنے سر کو دوپٹے سے ڈھانپنا شروع کر دیا تھا کہ بارے میں یہ افواہیں بھی اڑیں کہ انہوں نے خان صاحب کو زہر دیا اور خان صاحب بڑی مشکل سے بچے۔ اس بات کی تاہم پارٹی کی جانب سے تصدیق نہ ہوئی لیکن خان صاحب نے کسی جلسے کی اپنی تقریر کے دوران نواز شریف کے بیرون ملک علاج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا تھا کہ ایک دفعہ وہ بہت بیمار ہو گئے تو ڈاکٹرز کو ان کا پورا پیٹ چاک کر کے صفائی کرنا پڑی۔

طلاق کے بعد جب خان صاحب سے پشاور میں کسی صحافی نے سوال کیا تو انہوں نے اسے ٹوک کر چپ کروا دیا اور بعد میں معزرت کرنے کے ساتھ انہوں نے میڈیا اور چاہنے والوں سے درخواست کی کہ ریحام کے بارے میں کوئی نازیبا الفاظ استعمال نہ کئیے جائیں بلکہ وہ خود ان کی عزت ہی کرتے ہیں۔

مگر دوسری جانب ریحام نے مختلف اوقات میں مختلف صحافیوں کو انٹرویوز میں خان صاحب کی ذاتی زندگی، بچوں، پارٹی، سیاسی ٹیم، طریقہ سیاست اور یہاں تک کے پالتو کتوں تک پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ جب جب خان صاحب اپنے مخالفین کے خلاف اپنی گرفت مظبوط تر کرتے دکھائی دیتے ہیں تب تب ریحام خان کوئی نا کوئی شوشا یا چٹخلا چھوڑتی ہی ۔ سپریم کورٹ کے پانامہ پیپرز فیصلے کے بعد مخالفین کا ایجنڈا لے کر ریحام ایک مرتبہ پھر ایک سینئر صحافی کے ساتھ ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو میں نمودار ہوئیں اور ایک دفہع پھر عجیب و غریب سینئر صحافیانہ سوالات کے بھونڈے ترین جوابات دیتے ہوئے دکھائی دیں۔

یہاں ایک بدو عورت کا ذکر کرنا ضروری ہے جو انتہائی خوبصورت تو تھی مگر بھیک مانگا کرتی تھی۔ ایک دن بادشاہ کا وہاں سے گزر ہوا تو بادشاہ کا اس پر دل آگیا۔ بادشاہ نے اس سے شادی کا ارادہ کر لیا۔ مشیروں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر بادشاہ سلامت کی عقل پر پڑے پردے کو ہٹھانا کسی بھی مشیر کے بس کا روگ نہیں تھا۔ بادشاہ اس مانگنے والی بدو عورت کو بیاہ کر محل میں لے آیا۔ آہستہ آہستہ بادشاہ نے نوٹ کیا کہ اسکی ملکہ جو اب مانگنے والی اور بدو نہیں رہی تھی، کچھ نہ کھاتی، نہ پیتی تھی اور دن گزرنے کے ساتھ اس کی صحت ڈھلنا شروع ہو گئی۔ بادشاہ اپنی ملکہ کی اس حالت زار پر بہت پریشان ہوا تو اس کو اچانک ایک ترقیب سجھی۔ اس نے کھانے پینے کی اشیا ملکہ کے کمرے کے مختلف کونوں میں تھوڑی تھوڑی کر کے رکھ دیں اور بعدازاں یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ وہ تمام چیزیں اس کی موجودہ ملکہ اور سابقہ مانگنے والی نے کھا لی تھی۔ ان کی لو اسٹوری کا انجام جو بھی ہوا مگر بادشاہ کو اس امر کا شدت سے احساس ہو گیا تھا کہ لاکھ کسی کو عزت دے دی جائے مگر اگر اس کی فطرت یا خصلت ایسی ہے کہ اسے عزت راس نہیں تو وہ اپنے ہی طریقے سے زندگی گزارنے کو عزت پر ترجیح دے گا۔

ریحام خان کے لئے کیا اتنا کافی نہیں تھا کہ کپتان جیسے سچے اور کھرے لیڈر کی اہلیہ بنی، قوم نے نیشنل بھابھی کہہ کر پکارا۔ مگر شادی کے دوران اس نے عوامی تحریک کو اس ہی شخص سے ہتھیانے کی کوشش کی اور اس کا خمیازہ اس کو طلاق کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ طلاق کے بعد کے اس کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کپتان کی بیوی نہیں بلکہ ایک جاسوس بن کر ان کی خواب گاہ تک پہنچی اور کپتان کی بدنامی کا جو طریقہ اس سے بن پڑا اس نے استعمال کیا۔

دوسری جانب بڑے بڑے نیوز چینلز اور صحافی جو اپنے آپ کو عوام کا مسیحا کہتے ہیں، نے بھی اس بگاڑ میں اپنا پورا پورا کردار ادا کیا۔ وہ نام نہاد سینئر صحافی اور اینکر پرسنز جن کو کپتان کے خلاف اور تو کوئی الزام نہیں ملتا تو وہ مخالفین کا ایجنڈا لئے کپتان کی ذاتیات پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔ بس اس سے سابقہ برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جب مخالفین کے پاس کوئی سیاسی دلیل نہیں بچتی تو وہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔ ریحام خان جو کیا سے کیا بن سکتی تھی مگر اپنے امراض دماغ کے ڈاکٹر سابقہ شوہر کی اس بات پر مہر تصدیق لگاتی ہے کہ وہ ایک بے صبری، لالچی اور مغرور عورت تھی اور ہے اور اس کی یہ فطرت بدل نہیں سکتی۔ دوسری جانب کپتان کا حوصلہ تو دیکھئیے کہ اس سب کے باوجود وہ خود تو دور کی بات اپنے چاہنے والوں کو بھی اس عورت کے خلاف نازیبا الفاظ بولنے سے اجتناب کی تلقین کرتے ہیں۔ طلاق ہو جانے کے بعد بھی ریحام خان کا عمران خان کے خلاف زہر اگلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عمران خان کی شخصیت کے سحر سے نکلنا ناممکن ہے ۔۔۔چاہے کسی کو طلاق ہی کیوں نہ ہو گئی ہو۔

(جواد تہامی)

(عمران خان کی ریحام خان کی شادی پر میرا لکھا ہوا بلاگ ملاحظہ ہو)

jawadtehami.wordpress.com

Advertisements