میں جب بھی سینما گھر جاتا ہوں تو مووی شو سے پہلے ہر مرتبہ قومی ترانہ پورے عزت، احترام اور عقیدت کے ساتھ کھڑے ہو کر سننا پڑتا ہے۔ حب الوطنی کا رنگ پوری طرح چڑھایا جاتا ہے تب مووی دکھائی جاتی ہے۔ میرے ذہن میں اکثر یہ سوال آیا کرتا تھا کہ انگلش اور انڈین فلموں سے پہلے قومی ترانہ سنانے کی سمجھ تو آتی ہے مگر پاکستانی فلم سے پہلے قومی ترانہ سنانے کا کیا مقصد ہے؟ لیکن اس سوال کا جواب بھی کسی حد تک مجھے اس عید پر ریلیز کی گئی ایک پاکستانی فلم دیکھنے کے بعد مل ہی گیا۔

فلم کا نام ہے ایکٹر ان لاء اور اس کو دیکھنے کے بعد جو میرے محسوسات ہیں وہ میں قلم بند کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس فلم سے نہ ہی عوام کو تفریح فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی معاشرتی برائیوں اور مسائل پر ہلکے پھلکے اور شائستہ انداز میں چوٹ کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ قومی اداروں، مقدس پیشوں اور معاشرتی اخلاقیات اور شعار کا بھونڈے طریقے سے مذاق اڑایا گیا ہے۔  حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان سنسر بورڈ نے   اس فلم کی سینما گھروں میں نمائش کی اجازت کیسے دے دی؟

قومی پرچم کے تقدس کی پامالی  

فلم میں غیر ذمہ داری کا اس حد تک مظاہرہ کیا گیا ہے کہ قومی پرچم تک کو بھی نہیں بخشا گیا۔ انڈین فلموں کو سامنے رکھ لیا جائے تو شاید ہی کوئی ایسی فلم ملے جس میں انہوں نے اپنے قومی پرچم یعنی ترنگے کا مذاق بنایا ہو۔ وہ تو اس ترنگے کی حرمت پر مر مٹنے کو بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن دل خون کے آنسو رودیا جب فلم میں قومی پرچم کے سبز اور سفید رنگوں کی بات کمرہ عدالت میں ہوتی ہوئی دکھائی گئی اور یہ کہہ دیا گیا کہ سفید رنگ جو اقلیتوں کے نمائندگی کرتا ہے “ڈنڈا بھی تو وہاں ہی دیا گیا ہے”۔ جی وہی پرچم جس کو ہمارے ملک کے بڑے ہر سال چودہ اگست کو پھولوں کی پتیوں میں لپٹا، ہوا میں بلند کرکے دنیا بھر کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہمارا پرچم، یہ پیارا پرچم، یہ پرچموں میں عظیم پرچم، عطائے رب کریم پرچم۔  جی ہاں اسی پرچم کے بارے میں یہ الفاط استعمال کئے گئے ہیں جس کا قومی ترانے میں بھی ذکر کیا گیا ہے جو سینما گھروں میں ہر فلم کے شروع ہونے سے پہلے سنایا جاتا ہے۔

 دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پرچم کسی بھی ملک کا یا قوم کا ہو اس کو ہوا میں اونچا کرکے لہرانے کے لئے کسی ستون یا مستول سے باندھںا پڑتا ہے مگر اس بات کا مقصد اور مطلب کیا ہے کہ “ڈنڈا بھی وہاں ہی دیا گیا ہے”؟ اس کے صرف دو ہی مطلب نکلتے ہیں؛ ایک تو یہ کہ اس قوم کے پرچم کے بارے میں جو بھی الفاظ استعمال کر لئے جائیں اس قوم کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگے گی کیوں کہ فلم بنانے والے فرض کر چکے ہیں کہ قوم اس بات پر ہی خوش ہو جائے گی کہ کسی پاکستانی فلم میں اس قدر بہادری کا مظاہرہ کیا گیا ہے کہ اس میں ” ڈنڈا بھی تو وہاں ہی دیا ہے” جیسے بازاری فقرے استعمال کئے گئے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ کہ اس ملک میں سفید رنگ جو اقلیتوں کا نشان ہے ان کو اس قوم نے ڈنڈا دے کر رکھا ہوا ہے۔ فلمیں صرف کسی ایک ملک کی حدود کے اندر ہی نہیں دیکھی جاتیں بلکہ دنیا دیکھتی ہے تو اندازہ کریں کہ جب دنیا اور خاص طور پر پڑوسی ملک میں لوگ یہ فلم دیکھیں گے تو اقوام عالم میں ہمارا کیسا مذاق بنایا جائے گا کہ کیسی قوم ہے جس کو اپنے قومی پرچم کی حرمت اور تقدس کا خیال نہیں ہے۔ ہاں وہی پرچم جس کو جب کشمیر میں لہرایا actor-in-lawجاتا ہے تو یہ خوش ہوتی ہے۔

پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن ایک سو تئیس بی کے مطابق قومی پرچم کے بے حرمتی کرنے والے شخص کو تین سال تک جیل یا جرمانہ یا پھر دونوں ہو سکتے ہیں۔

فلیگ رولز دو ہزار دو کے مطابق قومی پرچم کی حرمت اس قدر ہے کہ اس کو رات کے اندھیرے میں لہرایا نہیں جاسکتا۔ تمام سرک عمارتوں پر پرچم کشائی صرف اور صرف صبح کے آغاز پر کی جا سکتی ہے جبکہ شام ہوتے ہی اس کو پر وقار تقریب کے ساتھ سرنگوں کیا جانا لازم ہے۔ صرف اور صرف پارلیمنٹ کی عمارت ایسی ہے جہاں قومی پرچم ہمیشہ کے لئے فضا میں بلند رہتا ہے اور رات کو اس کو روشن رکھنے کے لئے خاص طور پر اس پر لائٹ ڈالنے کا بندو بست کیا گیا ہے۔ پرچم کی شان اتنی ہے کہ اس کو ہر تقریب  میں ملک کے تمام اداروں کے پرچموں سے اونچا رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے بھی اس سال پنجاب حکومت کو چودہ اگست سے پہلے حکم جاری کیا تھا کہ مختلف تصویروں اور رنگوں میں چھپنے والے ستارہ و ہلالی پرچموں کی تیاری پر پابندی کو مکمل طور پر یقینی بنایا جائے تاکہ قومی پرچم کا تقدس پامال نہ ہونے پائے۔

  فلم کی کہانی: عدلیہ اور وکالت کی تضحیک  

 یہ فلم شروع ہوتی ہے ایک لڑکے شانی کی کہانی سے جس کا والد وکیل ہوتا ہے اور وہ لڑکا والد کے پرزور اور بارہا اسرار اور تاقید کے باوجود بھی وکیل نہیں بلکہ ایک ایکٹر بننا چاہتا ہے۔ لاکھ کوشش کے بعد اس کو کوئی بھی رول دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اس کے والد کو اس بات پر غصہ ہوتا ہے اس کے بیٹے نے لاء کالج مکمل کیوں نہیں کیا۔ پھر ایک دن شان کا والد حج کرنے کے لئے چلا جاتا ہے۔ اس دوران اس لڑکے کا ایک دوست اس کو ایک چھوٹے سے رول کے لئے لے جاتا ہے، فلم کے سیٹ پر اس کی اوور ایفی شینسی کی وجہ سے اس کو وہاں سے بے عزتی کروا کر نکلنا پڑتا ہے۔ اور واپسی پر اس کو اپنے والد کے عدالت سے کچھ کاغذات لانے پڑتے ہیں، جب وہ عدالت پہنچتا ہے تو وہاں شدید بارش شروع ہو جاتی ہے۔ اس دوران کچھ مزدورں کا ایک گروہ اس کو زبردستی اپنا کیس لڑنے کے لئے جج صاحب کے پاس لے جاتا ہے کیونکہ شانی اس وقت کالے کوٹ اور ٹائی میں ہوتا ہے۔ وہ عدالت میں فلم کے ڈائیلاگ مار کر فیصلہ مزدوروں کے حق میں کروا دیتا ہے۔ اب سوال یہ کہ کوئی بھی منہ اٹھا کر کسی کا کیس کیسے بغیر مقدمہ دائر کئے عدالت میں لڑ سکتا ہے؟ عدالت میں کسی کا کیس لڑنے کے لئے سب سے پہلے تو لاء کی ڈگری ہونا ضروری ہے پھر پاکستان کا یا کسی بھی صوبے کے بار کونسل کی جانب سے وکالت کا لائسنس ہونا ضروری ہے۔ اس کے بعد وہ عدالت میں ایک ضابطہ کار کے مطابق پیش ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے وکیل کو اپنے سائل کا کیس عدالت میں کلرک آف کورٹ کے پاس جمع کروانا پڑتا ہے۔ کلرک اس پر اس عدالت کے جج صاحب کی ایکسیپٹنس یا ریجیکشن کی مہر لگاتا ہے۔ اس عدالت میں سماعت کے لئے کیس کی قبولیت کے صورت میں عدالت کی جانب سے مدعا علیہ کو نوٹس بھجواتا ہے۔ نوٹس ملنے کے بعد مدعا علیہ جواب دعوی دائر کرتا ہے۔ اس کے بعد دونوں پارٹیوں کو ایک مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہونا ہوتا ہے جہاں ان کو اپنا اپنا مدعا بیان اور ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اس کو ایشو فریم کہتے ہیں۔

اس فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ شانی جو ایک جعلی وکیل ہوتا ہے وہ سیدھا عدالت میں جا کر مزدوروں کے حق میں دلائل دینا شروع کر دیتا ہے اور اس کے بحث کے بعد فاضل عدالت کے جج صاحب مخالف پارٹی کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اگر یہ بھی سمجھ لیا جائے کہ اس نے پہلے کیس فائل کیا ہو گا تو اس کا مطلب ہے کہ فلم میں دکھائے گئے عدالت میں موجود اسٹاف اور جج  صاحب سب اس کو کیس لڑنے سے روک نہیں سکے۔

 شانی اس جیت کے بعد کیس ڈھونڈنا شروع کر دیتا ہے باوجود اس کے کہ اس کے پاس لاء کہ نہ تو کوئی ڈگری ہوتی ہے اور نہ ہی وکالت کا لائسنس۔  اس کے باوجود اس کو پبلک انٹرسٹ کے کیسسز ملنا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ کیس جیت کر مشہور ہو جاتا، اس کی خبریں میڈیا پر ہید لائنز کی شکل میں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کم و بیش وہ چھ سے سات مرتبہ مختلف عدالتوں میں پیش ہو کر کیسز جیت جاتا ہے اور مشہور ہوتا جاتا ہے لیکن مجال ہے کسی بھی بار کونسل، ایسوسی ایشن، وکیل، جج صاحب یا کورٹ کلرک کو اس کے جعلی ہونے کا اندازہ بھی ہوا ہو۔ یہ سب دکھا کر نہ صرف کورٹ پروسیجرکا مذاق اڑایا گیا ہے۔ عدلیہ اور وکلاء کی تضحیک اور توہین کی گئی ہے۔  کیا صرف فلم کے شروع میں ڈسکلیمر دے دینا ہی کافی ہے کہ اس فلم کا مقصد کسی بھی پیشے یا ادارے کی تضحیک کرنا نہیں اور اس کے بعد پوری فلم میں معزز عدلیہ اور وکالت جیسے مقدس پیشے کا انتہائی بھونڈے اور قابل اعتراض طریقے سے مذاق بنا دیا جائے؟

  مہوش حیات نے اس فلم میں بھرپور اوور ایکٹنگ کے جوہر دکھائے ہیں۔ وہ مینا نامی لڑکی جو ایک ٹی وی چینل کی رپورٹر ہوتی ہے، کا کردار نبھا رہیں ہیں۔ مینا شانی کے پہلے کیس پر رپورٹ تیار کر کے جب اپنے باس سے اس خبر کو چلانے کے  لئے بدتمیز اور بحث کرتی ہے تو اس کو چینل سے نکال دیا جاتا ہے۔ باس اس کی خبر کو آن ائیر کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد مینا کے نکالے جانے کے باوجود اس کی خبر کا ویڈیو بیپر اسی چینل پر چلا دیا جاتا ہے

 “جا کر اپنے ہاتھ سیکو” اور ” وہ لڑکا ادھر دیکھ رہا تھا جہاں کوئی بھی نہیں دیکھتا” اور “تم ہو ہی اب ایسی اور دوپٹہ بھی نہیں لیتی تو لوگ تو دیکھیں گے” جیسے فکرے بھی اس فلم کاحصہ ہیں۔ بازار میں شانی کے ساتھ ہونے والی دست درازی کا سین بھی فلم کا حصہ ہے۔

کمرہ عدالت میں ایک سوچ آف موبائل فون کا پوسٹر لگا دکھایا گیا ہے جس کا رخ عدالت میں حاضرین کے بجائے جج صاحب کی ہی جانب ہوتا ہے۔

بھارتی فلم  کے کاپی سین اور فقرے  

  جب شانی کے بارے میں مدثر سلطان جو فلم میں بولڈ نیوز کا پرائم ٹائم اینکر دکھایا گیا ہے شانی کی اصلیت پر بریکنگ چلاتا ہے تو شانی  کے خلاف مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں اور بالآخر وہ خود گرفتاری دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔  جب وہ خود کو پولیس کے حوالے کرتا ہے تو وہ سین راک سٹار کا کاپی لگتا ہے۔ اس کے بعد جب جو فقرے ایک خاتون رپورٹر اس کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانے پر بولتی ہے وہ سن کر بھی گمان ہوتا ہے کہ راک سٹار سے کاپی کئے گئے ہیں۔  شانی کی گرفتاری کے بعد خاتون رپورٹر اس کے گھر پہنچتی ہے تو شانی کا والد دروازے میں سے باہر دیکھتا ہے تو رپورٹر اس کے آگے مائیک کر کے اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر اس کے ساتھ کیمرہ مین اپنا کیمرہ شانی کے والد کی جانب گھمانے کی بجائے رپورٹر پر ہی رکھتا ہے

اس فلم میں قومی پرچم کے تقدس کی پامالی اور مقدس پیشوں کی تضحیک کرنے پر متعلقہ اداروں کو نوٹس لینا چاہیئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ کسی کو بھی ایسی فلم بنانے اور سنسر بورڈ کو پاس کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے کہ جس سے قومی وقار اور تشخص کو نقصان پہنچے۔ چند ماہ قبل فلم مالک کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی تھی اور وجہ بتائی جارہی تھی کہ اس میں عام آدمی کو قانون ہاتھ میں لے کر ایک وزیر کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا  ہے۔ اگر فلم مالک پر اس بات پر پابندی لگ سکتی ہے تو قومی پرچم تو ہماری پہچان ہے، ہماری شان ہے اور اگر کسی فلم میں اس کے بارے میں غیر مہذب زبان استعمال کی گئی ہے  تو اس پر فورا ایکشن ہونا چاہیئے اور فلم بنانے والوں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیئے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسا خیال بھی دل میں نہ لائے۔

یوں تو کہا جارہا ہے کہ پاکستان میں سینما کا ریوائیول ہو رہا ہے، نئے آڈیاز پر فلمیں بن رہی ہے مگر ایکٹر ان لاء جیسی فلم دیکھنے کے بعد شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں سینما کے حقیقی ریوائیول  کے لئے ابھی بہت وقت درکار ہے۔ پاکستانی سینما کے اس سو کالڈ ریوائیول سے فلمی صنعت ترقی کی جانب بڑھنے کی بجائے مذید تنزلی کی جانب بڑھے گی۔  حالیہ دنوں میں بننے والی اکثر فلموں کا تجزیہ کیا جائے تو ہر فلم میں ایکٹروں کی تو بھرمار مگر ایکٹنگ کا فقدان نظر آتا ہے۔ کمزور ڈائیلاگز، سٹوری لائنز، کوریوگرافی، سینیمیٹو گرافی اور معاشی یا سیاسی مسائل پر چوٹ کرتی فلموں میں جامع تحقیق کی کمی واضح نظر آتی ہے۔ ایکٹر ان لاء کے بارے  آخر میں صرف اتنا کہتا چلوں کہ یہ ہر لحاظ سسے بھونڈی اور بے ہودہ فلم ہے، لہذا اس کو دیکھنے کے لئے اپنی سینما ٹکٹ ضائع اور وقت برباد مت کریں۔

Advertisements